برطانیہ میں غربت کی انتہا: نئی تصویر سامنے آ گئی، بنگلہ دیشی اور پاکستانی کمیونٹیز سب سے زیادہ متاثر
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
برطانیہ میں غربت کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے اور ملک میں انتہائی شدید غربت کا شکار افراد کی تعداد گزشتہ 3 دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
ایک نئی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 68 لاکھ افراد ایسے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جنہیں ’ویری ڈیپ پاورٹی‘ قرار دیا گیا ہے۔
یہ انکشاف جوزف راؤنٹری فاؤنڈیشن (JRF) کی منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا، جس کے مطابق ’انتہائی شدید غربت‘ سے مراد ایسے گھرانے ہیں جن کی رہائش کے اخراجات نکالنے کے بعد آمدن برطانیہ کی اوسط آمدن کے 40 فیصد سے بھی کم ہو۔ رپورٹ کے مطابق 2 کم عمر بچوں والے ایک خاندان کے لیے یہ آمدن سالانہ تقریباً 16 ہزار 400 پاؤنڈ بنتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ مجموعی طور پر برطانیہ میں غربت کی شرح 1994-95 میں 24 فیصد سے کم ہو کر 2023-24 میں 21 فیصد ہو گئی ہے، تاہم شدید غربت میں مبتلا افراد کی شرح 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہو چکی ہے، جو غربت میں رہنے والے تقریباً نصف افراد پر مشتمل ہے۔
بچوں کی غربت میں تشویشناک اضافہرپورٹ کے مطابق بچوں کی غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت برطانیہ میں 45 لاکھ بچے غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، جو لگاتار تیسرا سال ہے جب یہ تعداد بڑھی ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ اپریل سے 2 بچوں تک محدود فلاحی ادائیگیوں کی شرط ختم کر دی جائے گی۔ حکومتی اندازوں کے مطابق اس فیصلے پر 3.
یہ شرط 2017 میں کنزرویٹو حکومت نے متعارف کرائی تھی، جس کے تحت کم آمدن والے خاندانوں کو تیسرے یا اس کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کے لیے اضافی فوائد نہیں ملتے تھے۔
نسلی اقلیتیں اور معذور افراد زیادہ متاثرجوزف راؤنٹری فاؤنڈیشن کے مطابق غربت کا سب سے زیادہ اثر بچوں اور معذور افراد پر پڑ رہا ہے، جبکہ برطانیہ میں بعض نسلی اقلیتیں، خاص طور پر بنگلہ دیشی اور پاکستانی کمیونٹیز، غربت کی بلند شرح کا سامنا کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے برطانیہ میں اسائلم کے نئے قوانین متعارف، پاکستانی پناہ گزینوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
فاؤنڈیشن نے اگرچہ 2 بچوں کی حد ختم کرنے کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم خبردار کیا ہے کہ صرف یہی اقدام کافی نہیں۔ ادارے کے مطابق اگر بچوں کی غربت کے خاتمے کے لیے مزید جامع حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو بہتری کا عمل رک سکتا ہے۔
سماجی اداروں کا ردعملغربت کے خلاف کام کرنے والے معروف ادارے بگ ایشو کے بانی جان برڈ نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار معاشرے کے لیے بری خبر ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ برطانیہ میں عدم مساوات تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ مجموعی غربت میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن انتہائی غربت ایک سنگین اور بڑھتا ہوا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانیہ میں غربت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ میں غربت برطانیہ میں غربت بچوں کی غربت کے مطابق غربت کی کے لیے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز