حریت کانفرنس کے زیر اہتمام زبردست بھارت مخالف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
مقررین نے کہا کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کو دنیا بھر میں مقیم کشمیری ہر سال یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں جس کا مقصد عالمی برادری کو پیغام دینا ہے کہ بھارت جمہوری ملک نہیں بلکہ یہ جارح اور استعماری ریاست ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی یوم جمہوریہ کو ”یوم سیاہ” کے طور پر منانے کیلئے کل جماعتی حْریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیرِاہتمام اسلام آباد میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق احتجاج کا مقصد عالمی برادری کو یہ واضح پیغام دینا تھا کہ بھارت ایک حقیقی جمہوری ملک نہیں بلکہ ایک جارح، استعماری اور قابض طاقت ہے جس نے کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے، سیاہ جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر جموں و کشمیر پر بھارت کے فوجی تسلط کے خلاف اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حق میں نعرے درج تھے۔ اسلام آباد کی فضا ”بھارتی نام نہاد جمہوریت ہائے ہائے، ہم کیا چاہتے آزادی”، ہے حق ہمارا آزادی، بھارت سے لیں گے آزادی اور Go India Go Back جیسے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ مظاہرے کی قیادت کنوینر کل جماعتی حْریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ غلام محمد صفی نے کی جبکہ مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی شدید مذمت کی۔
مقررین نے کہا کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کو دنیا بھر میں مقیم کشمیری ہر سال یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں جس کا مقصد عالمی برادری کو پیغام دینا ہے کہ بھارت جمہوری ملک نہیں بلکہ یہ جارح اور استعماری ریاست ہے جس نے ایک کروڑ 30لاکھ کشمیریوں کو ان کے تمام سیاسی، مذہبی اور انسانی حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو متنازعہ علاقے میں اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ محمود احمد ساغر نے اپنے خطاب میں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کا مخلص دوست ہے اور ان کی منصفانہ جدوجہد آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل تمام بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر رہا ہے جبکہ بھارت فوجی طاقت کے بل پر جموں و کشمیر پر غیر قانونی طور پر قابض ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے میں ناکامی سے جنوبی ایشیا میں جوہری تصادم کا سنگین خطرہ ہے جس کے علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ احتجاجی مظاہرے میں حریت رہنمائوں سید فیض نقشبندی، سید یوسف نسیم، میر طاہر مسعود، میڈم شمیم شال، سید اعجاز رحمانی، دائود خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لبریشن سید سوار خان، نجیب الغفور، شیخ عبدالمتین، ثنا اللہ ڈار، چوہدری شاہین، نثار مرزا، راجہ خادم حسین، نذیر احمد کرنائی، زاہد صفی، عبدالمجید لون، شفیع ڈار، میاں مظفر، سید گلشن شاہ، عدیل مشتاق، امتیاز بٹ، عبدالرشید بٹ، ریاض میر، خالد شبیر اور دیگر کے علاوہ میڈیا کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یوم جمہوریہ نے کہا کہ کہ بھارت
پڑھیں:
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ آج کی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ آئل کی قیمت میں اب تک تقریباً 6.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور خطے کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے اور دوبارہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔