data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صدر مملکت آصف علی زرداری سے ابوظبی پورٹس گروپ کے اعلیٰ حکام نے ملاقات کی جس میں پاکستان میں ابوظبی پورٹس کی سرمایہ کاری، کراچی پورٹ کی توسیع اور بندرگاہوں کے جدید انفراسٹرکچر پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے بحری تجارت کے فروغ اور بندرگاہی شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

صدر آصف علی زرداری اور ابوظبی پورٹس گروپ کے حکام کے درمیان کراچی پورٹ کی توسیع میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ اس موقع پر بندرگاہوں کی استعداد میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی گفتگو کی گئی، تاکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

صدر مملکت نے پاکستان میں بندرگاہی ترقی کے لیے ابوظبی پورٹس کے کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد میں ابوظبی پورٹس کے دفتر کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایسے منصوبے ملکی معیشت اور بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

ملاقات میں دونوں وفود نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شراکت داری کو مزید وسعت دی جائے گی۔ دونوں ممالک نے بحری تجارت بڑھانے، بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور طویل المدتی تعاون کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ابوظبی پورٹس کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ