صدر مملکت سے ابوظبی پورٹس گروپ کے حکام کی ملاقات، کراچی پورٹ کی توسیع اور سرمایہ کاری پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صدر مملکت آصف علی زرداری سے ابوظبی پورٹس گروپ کے اعلیٰ حکام نے ملاقات کی جس میں پاکستان میں ابوظبی پورٹس کی سرمایہ کاری، کراچی پورٹ کی توسیع اور بندرگاہوں کے جدید انفراسٹرکچر پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے بحری تجارت کے فروغ اور بندرگاہی شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری اور ابوظبی پورٹس گروپ کے حکام کے درمیان کراچی پورٹ کی توسیع میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ اس موقع پر بندرگاہوں کی استعداد میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی گفتگو کی گئی، تاکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
صدر مملکت نے پاکستان میں بندرگاہی ترقی کے لیے ابوظبی پورٹس کے کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد میں ابوظبی پورٹس کے دفتر کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایسے منصوبے ملکی معیشت اور بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ملاقات میں دونوں وفود نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان شراکت داری کو مزید وسعت دی جائے گی۔ دونوں ممالک نے بحری تجارت بڑھانے، بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور طویل المدتی تعاون کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ابوظبی پورٹس کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔