مظفر آباد میں بھارت مخالف زبردست احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
مظاہرے کے شرکاء نے سیاہ جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کے حق میں نعرے درج تھے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی یومِ جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کیلئے آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں زبردست مظاہرے کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر اور جموں کشمیر لبریشن سیل کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے کی قیادت کشمیری حریت رہنمائوں شیخ عبدالماجد، محمد اشرف ڈار، سید منظور احمد شاہ، ذاہد اشرف اور مشتاق الاسلام نے کی۔ مظاہرے میں اہلیانِ مظفرآباد، کشمیری مہاجرین و انصار، سیاسی، سماجی و مذہبی تنظیموں کے نمائندوں، وکلا، طلبا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرے کے شرکاء نے سیاہ جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقع پر بھارت مخالف اورجدوجہد آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کیے۔
اس موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی تسلط کو جاری رکھنے کیلئے تمام بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور اپنے ہی آئین کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاست کا یہ طرزِ عمل اس کے نام نہاد جمہوری دعوئوں کی کھلی نفی ہے۔ ایڈوکیٹ پرویز احمد شاہ نے مزید کہا کہ جس ریاست نے کشمیری عوام کو ان کے بنیادی سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق سے محروم کر رکھا ہو، اسے یومِ جمہوریہ منانے کا کوئی اخلاقی، قانونی یا انسانی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، بلاجواز گرفتاریاں اور کالے قوانین بھارتی ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں۔
ترجمان وزیراعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر، ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان اور جموں کشمیر لبریشن سیل کے ڈائریکٹر راجہ سجاد نے کہا کہ بھارت میں ہندو اکثریت کے علاوہ تمام اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے اور کشمیر کے حوالے سے بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، جہاں جموں و کشمیر کے عوام کو دانستہ طور پر انکے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی موجودگی ایک سامراجی اور غیر قانونی فوجی قبضے کی صورت اختیار کر چکی ہے اور بھارتی یومِ جمہوریہ کشمیری عوام کے لیے جمہوریت نہیں بلکہ غلامی، جبر اور استحصال کی علامت ہے۔ سابق وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ حل طلب تنازعہ کشمیر سے جنوبی ایشیاء کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے، جس کی مکمل ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں مسلسل رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیری عوام نے کہا کہ کشمیر کے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔