بھارت میں کورونا سے بھی مہلک وائرس پھوٹ پڑا‘ ٹی 20 ورلڈ کپ متاثر ہونے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-01-21
ممبئی /کولکتہ(مانیٹرنگ ڈیسک)آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سر پر پہنچتے ہی بھارت میں مہلک نپاہ وائرس پھیلنے لگا، وبا کے نئے کیسز سامنے آگئے۔ ورلڈ کپ 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جانا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال میں نپاہ وائرس کے کم از کم 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد ہنگامی طبی اقدامات کے تحت تقریباً 100 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جن میں کولکتہ کی 2 نرسیں مبینہ طور پر تشویشناک حالت میں ہیں۔مہلک وائرس کا یہ پھیلاؤ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر سے متعدد بین الاقوامی ٹیموں، شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بھارت پہنچنے والے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق نیپا وائرس انفیکشن ’زونوٹک النیس‘ یعنی ایسی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں پھیلتی ہے جبکہ یہ آلودہ غذا اور وائرس سے متاثرہ شخص سے قریبی رابطے کے ذریعے بھی پھیل سکتی ہے۔بھارت میں نپاہ وائرس کے محدود کیسز سامنے آنے کے بعد ایشیا کے کئی ممالک نے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی اسکریننگ سخت کر دی ہے۔رپورٹوں کے مطابق تھائی لینڈ، نیپال اور تائیوان نے مغربی بنگال سے آنے والے مسافروں کی نگرانی بڑھا دی ہے اور کووڈ طرز کے طبی معائنے دوبارہ شروع کر دیے گئے ہیں۔صحت حکام کے مطابق نپاہ ایک زونوٹک وائرس ہے جو چمگادڑوں اور سوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے اور قریبی انسانی رابطے سے بھی پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، پٹھوں میں درد، قے اور گلے میں خراش شامل ہیں، جبکہ شدید صورت میں سانس کی تکلیف اور دماغی سوزش جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے اور کیسز کی تعداد محدود ہے۔ ماہرین کے مطابق کیرالہ اور مغربی بنگال نپاہ کے اینڈیمک علاقے ہیں۔ نپاہ وائرس کی شرح اموات 40 سے 75 فیصد تک بتائی جاتی ہے اور فی الحال اس کی کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں، تاہم علاج کے لیے مونوکلونل اینٹی باڈیز حاصل کی جا رہی ہیں۔ نپاہ کا قرنطینہ دورانیہ 21 دن ہے اور عموماً قریبی رابطے متاثر ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نپاہ وائرس کے مطابق ہے اور
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔