شمالی کوریا کا 350 کلومیٹر کے فاصلےتک مار کرنیوالے بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے منگل کے روز سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے جو ممکنہ طور پر کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تھے۔
میڈیاذرائع کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ میزائل مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 50 منٹ پر شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریب ایک علاقے سے مشرقی ساحل کی سمت سمندر میں داغے گئے۔ بیان کے مطابق میزائلوں نے تقریباً 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
ادھر جاپان کے کوسٹ گارڈ نے بھی کہا کہ اس نے شمالی کوریا کی جانب سے داغے گئے ممکنہ بیلسٹک میزائلوں کو ٹریک کیا جو چند منٹ بعد سمندر میں گرے۔ جاپان کے مطابق میزائل زیادہ سے زیادہ 80 کلومیٹر کی بلندی تک گئے۔
جنوبی کوریا کے دفتر برائے قومی سلامتی نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ بیلسٹک میزائل داغنے کا عمل فوری طور پر روکے اور اسے اشتعال انگیز سرگرمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق شمالی کوریا حالیہ مہینوں میں کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور متعدد راکٹس کے تجربات کر چکا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہیں امریکا اور جنوبی کوریا کی جانب سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے جنوبی کوریا کے تزویراتی جوہری ہتھیاروں کے نظام کا اہم حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیلسٹک میزائل شمالی کوریا جنوبی کوریا کے مطابق کوریا کے
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔