آسٹریلیا نے اسلام کے خلاف نفرت انگیز تقریر پر اسرائیلی انفلوئنسر کی ویزا منسوخ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
آسٹریلیا کی حکومت نے اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یہود کا ویزا منسوخ کر دیا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر اسلام کے خلاف مہم چلائی تھی۔ حکام نے واضح کیا کہ وہ کسی ایسے شخص کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دیں گے جو نفرت پھیلانے کے لیے آئے۔ سیمی یہود کے مطابق ویزا ان کے پرواز سے 3 گھنٹے قبل منسوخ کیا گیا، جس کے بعد وہ ابو ظہبی پہنچے مگر اپنے کنیکٹنگ فلائٹ سے روک دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا، بونڈی بیچ حملے میں دہشتگردکیخلاف ہیرو قرار پانے والے احمد العدید کو زبردست خراج تحسین
سیمی یہود نے ’ایکس‘ پر کہا کہ یہ کہانی ظلم، سنسرشپ اور کنٹرول کی ہے۔ مجھے غیر قانونی طور پر آسٹریلیا سے ممنوع قرار دیا گیا ہے اور میں قانونی کارروائی کروں گا‘۔
ہوم افیئرز کے وزیر ٹونی برک نے کہا کہ جو لوگ آسٹریلیا آنا چاہتے ہیں، انہیں درست ویزا حاصل کرنا چاہیے اور صحیح مقصد کے لیے آنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نفرت پھیلانا کسی کے آنے کی وجہ نہیں ہو سکتی۔
یاد رہے کہ آسٹریلیا نے اس ماہ نفرت انگیز جرائم کے قوانین سخت کر دیے تھے، جس کا مقصد 14 دسمبر کو بونڈی بیچ پر ہنوکا کے جشن میں ہونے والے ماس شوٹنگ کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کا مقابلہ کرنا تھا، جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:بونڈی حملہ: بھارتی نژاد حملہ آور باپ بیٹے نے گاؤں میں ٹریننگ لی
سیمی یہود کا ویزا اسی قانون کے تحت منسوخ کیا گیا ہے، جسے ماضی میں بھی نفرت پھیلانے کی بنیاد پر ویزا منسوخ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی جیوئش ایسوسی ایشن نے انفلوئنسر کو تقریر کے لیے مدعو کیا تھا۔ں کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا اسرائیل اسلام ہنوکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا اسرائیل اسلام ہنوکا سیمی یہود کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔