ایران کا آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان، فضائی حدود عارضی طور پر خطرناک قرار
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ایران نے خلیج فارس کی انتہائی اہم سمندری گذرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب فضائی حدود میں لائیو فائر فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نوٹم جاری کر دیا ہے، جس کے بعد متعلقہ فضائی حدود کو عارضی طور پر خطرناک قرار دے دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ مشقیں 27 سے 29 جنوری تک جاری رہیں گی، جو پانچ ناٹیکل میل کے دائرے میں زمین کی سطح سے لے کر 25 ہزار فٹ کی بلندی تک فضائی علاقے میں کی جائیں گی۔ اس دوران شہری اور فوجی پروازوں پر پابندیاں عائد رہیں گی اور فضائی ٹریفک کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی اثاثے مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور فوری تعیناتی اور ردعمل کی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
ادھر واشنگٹن کے حکام نے ایران سے متعلق مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ تمام آپشنز زیر غور ہیں، جن میں عسکری کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ اس کے جواب میں ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایوی ایشن حکام نے شہری اور فوجی پروازوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فضائی انتباہات پر سختی سے عمل کریں اور اس دوران غیر ضروری خطرات سے گریز کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔