یو جی سی کے ذریعے عوام کو تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، اجے رائے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اترپردیش کانگریس کے صدر نے کہا کہ گجرات کے صنعت کار بڑے کاروبار چلا رہے ہیں اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔ ہندو سماج کے اندر بھی تقسیم پیدا کی جارہی ہے، لیکن کانگریس پارٹی ایسا ہرگز ہونے نہیں دیگی۔ اسلام ٹائمز۔ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز سے نمٹنے کے لئے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی جانب سے جاری کئے گئے نئے ضوابط پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اترپردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یو جی سی کے ذریعے ملک کے عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اجے رائے نے کہا کہ جس طرح ماضی میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہندو-مسلم کا سہارا لیا گیا، اب اسی طرز پر یو جی سی کے ذریعے سماج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ یہ حکومت اب اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ گجرات کے صنعت کار بڑے کاروبار چلا رہے ہیں اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔ ہندو سماج کے اندر بھی تقسیم پیدا کی جا رہی ہے، لیکن کانگریس پارٹی ایسا ہرگز ہونے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے سب ایک ہیں، جو نظام ہمارے دور میں تھا، اسے اب مزید مضبوطی کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیئے۔
یو جی سی کے نئے ضوابط پر اٹھنے والے خدشات کے درمیان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے منگل کے روز وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا کسی بھی صورت میں غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان نے کہا کہ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ کوئی امتیاز ہوگا اور نہ ہی کوئی اس قانون کا غلط استعمال کر سکے گا۔ واضح رہے کہ یو جی سی نے 13 جنوری 2026ء تعلق اپنے 2012ء کے ضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے نئے قوانین نافذ کیے ہیں۔ ان ضوابط کے خلاف جنرل کیٹیگری کے طلبہ میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فریم ورک ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا سبب بن سکتا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی کمیٹیوں اور ہیلپ لائنز کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ بالخصوص ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طلبہ کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔
یو جی سی کی پالیسیوں کے خلاف لکھنؤ میں طلبہ نے لکھنؤ یونیورسٹی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ان ضوابط پر نظرثانی کی جائے۔ اس معاملے میں سیاسی ہلچل اس وقت مزید بڑھ گئی جب رائے بریلی کے سالون حلقہ سے بی جے پی کسان مورچہ کے نائب صدر شیام سندر ترپاٹھی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر یو جی سی کی نئی پالیسیوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ خط میں کہا گیا کہ اعلیٰ ذات کے بچوں کے خلاف لائے گئے کالے قانون جیسے ریزرویشن بل کی وجہ سے میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ یہ قانون سماج کے لئے خطرناک اور تقسیم کرنے والا ہے، ایسے غیر اخلاقی قانون کی حمایت کرنا میری خودداری اور نظریے کے خلاف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یو جی سی کے نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف رہی ہے
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔