اترپردیش کانگریس کے صدر نے کہا کہ گجرات کے صنعت کار بڑے کاروبار چلا رہے ہیں اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔ ہندو سماج کے اندر بھی تقسیم پیدا کی جارہی ہے، لیکن کانگریس پارٹی ایسا ہرگز ہونے نہیں دیگی۔ اسلام ٹائمز۔ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز سے نمٹنے کے لئے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی جانب سے جاری کئے گئے نئے ضوابط پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اترپردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یو جی سی کے ذریعے ملک کے عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اجے رائے نے کہا کہ جس طرح ماضی میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہندو-مسلم کا سہارا لیا گیا، اب اسی طرز پر یو جی سی کے ذریعے سماج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ یہ حکومت اب اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ گجرات کے صنعت کار بڑے کاروبار چلا رہے ہیں اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔ ہندو سماج کے اندر بھی تقسیم پیدا کی جا رہی ہے، لیکن کانگریس پارٹی ایسا ہرگز ہونے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے سب ایک ہیں، جو نظام ہمارے دور میں تھا، اسے اب مزید مضبوطی کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیئے۔

یو جی سی کے نئے ضوابط پر اٹھنے والے خدشات کے درمیان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے منگل کے روز وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کا کسی بھی صورت میں غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان نے کہا کہ میں سب کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ کوئی امتیاز ہوگا اور نہ ہی کوئی اس قانون کا غلط استعمال کر سکے گا۔ واضح رہے کہ یو جی سی نے 13 جنوری 2026ء تعلق اپنے 2012ء کے ضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے نئے قوانین نافذ کیے ہیں۔ ان ضوابط کے خلاف جنرل کیٹیگری کے طلبہ میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فریم ورک ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا سبب بن سکتا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی کمیٹیوں اور ہیلپ لائنز کے قیام کو لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ بالخصوص ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طلبہ کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔

یو جی سی کی پالیسیوں کے خلاف لکھنؤ میں طلبہ نے لکھنؤ یونیورسٹی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ان ضوابط پر نظرثانی کی جائے۔ اس معاملے میں سیاسی ہلچل اس وقت مزید بڑھ گئی جب رائے بریلی کے سالون حلقہ سے بی جے پی کسان مورچہ کے نائب صدر شیام سندر ترپاٹھی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر یو جی سی کی نئی پالیسیوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ خط میں کہا گیا کہ اعلیٰ ذات کے بچوں کے خلاف لائے گئے کالے قانون جیسے ریزرویشن بل کی وجہ سے میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ یہ قانون سماج کے لئے خطرناک اور تقسیم کرنے والا ہے، ایسے غیر اخلاقی قانون کی حمایت کرنا میری خودداری اور نظریے کے خلاف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یو جی سی کے نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف رہی ہے

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی