بھارت میں نِپاہ وائرس کے دو کیسز، حکومت کا دعویٰ: بروقت کنٹرول ممکن ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نِپاہ وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات کے نتیجے میں وائرس کے پھیلاؤ کو روک لیا گیا ہے۔
بھارتی وزارتِ صحت کے مطابق متاثرہ افراد کی شناخت کے بعد نگرانی کا نظام مزید مضبوط کیا گیا، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور فیلڈ تحقیقات کی گئیں، جس کے سبب کیسز کو بروقت قابو میں رکھا جا سکا۔ وزارت نے متاثرہ مریضوں کی مزید ذاتی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ دونوں کیسز سے جڑے 196 افراد کی نشاندہی کی گئی جن کے ٹیسٹ منفی آئے۔
نِپاہ وائرس بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، اس کی کوئی ویکسین موجود نہیں، اور عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
یہ وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا، جہاں خنزیر پالنے والے کسان متاثر ہوئے تھے۔ بھارت میں نِپاہ کی پہلی وبا 2001 میں مغربی بنگال میں رپورٹ ہوئی، جبکہ 2018 میں کیرالہ میں کم از کم 17 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ 2023 میں بھی کیرالہ میں دو افراد نِپاہ وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔
ماہرین کے مطابق فروٹ بیٹس (چمگادڑیں) وائرس کی قدرتی میزبانی کرتی ہیں، جو پھیلاؤ کی بڑی وجہ بنتی ہیں۔ نِپاہ وائرس کی علامات میں تیز بخار، قے، سانس کی بیماری شامل ہیں، جبکہ شدید کیسز میں دورے اور دماغی سوزش کے باعث مریض کومے میں بھی جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ن پاہ وائرس وائرس کے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔