برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا چین میں 3 روزہ دورہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر تین روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ چینی قیادت سے اہم سیاسی اور معاشی معاملات پر بات چیت کریں گے۔
یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ سال 2018 کے بعد کسی برطانوی وزیرِاعظم کا چین کا پہلا دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق کیئر اسٹارمر کی چین کے صدر شی جن پنگ سے جمعرات کو ملاقات متوقع ہے، جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ برطانوی وزیرِاعظم کے ہمراہ 60 سے زائد کاروباری اور ثقافتی شعبوں سے وابستہ شخصیات بھی چین پہنچی ہیں، جو اس دورے کو تجارتی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو فروغ دینے پر خصوصی گفتگو ہوگی، جبکہ انسانی حقوق اور سائبر سکیورٹی جیسے حساس معاملات بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔ لندن کا مؤقف ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات میں توازن اور شفافیت ضروری ہے، تاکہ تجارتی مفادات کے ساتھ ساتھ بنیادی اقدار کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مغربی دنیا اور چین کے تعلقات کئی معاملات پر تناؤ کا شکار ہیں۔ اس پس منظر میں کیئر اسٹارمر کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور مکالمے کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے، تاہم اس کے نتائج کا انحصار اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں طے پانے والے نکات پر ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کیئر اسٹارمر چین کے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔