لندن اور بیجنگ میں قربت؟ برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر کا چین کا اہم دورہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر چین کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ یہ 8 سال بعد کسی برطانوی رہنما کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ اس دورے کا مقصد چین کے ساتھ تعلقات کی بحالی، اقتصادی تعاون کو فروغ دینا اور ایک غیر متوقع امریکا پر انحصار کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
امریکا سے تناؤ، چین کی جانب سفارتی قدماسٹارمر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب برطانیہ اور اس کے دیرینہ اتحادی امریکا کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور گرین لینڈ پر کنٹرول سے متعلق دعوؤں کے بعد۔ ماہرین کے مطابق لندن موجودہ عالمی حالات میں اپنے سفارتی اور معاشی آپشنز کو وسعت دینا چاہتا ہے۔
کنگز کالج لندن کے پروفیسر کیری براؤن کے مطابق، اس دورے میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ برطانیہ اور چین امریکا اور صدر ٹرمپ کے موجودہ رویے کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ بعض عالمی معاملات، جیسے مصنوعی ذہانت، صحت عامہ اور ماحولیات پر، لندن واشنگٹن کے مقابلے میں بیجنگ کے زیادہ قریب نظر آتا ہے۔
اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور کاروباری وفد3 روزہ دورے کے دوران کیئر اسٹارمر چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وہ شنگھائی جائیں گے اور مختصر دورے پر جاپان بھی روانہ ہوں گے۔
اسٹارمر کے ہمراہ درجنوں کاروباری رہنما اور 2 وزرا بھی چین جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وفد میں ایچ ایس بی سی کے چیئرمین برینڈن نیلسن اور ایسٹرا زینیکا کے چیف ایگزیکٹو پاسکل سوریو بھی شامل ہیں۔
برطانیہ کی معیشت، چین پر امیدیںبرطانوی حکومت چین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کو اسٹارمر کے اس وعدے سے جوڑ رہی ہے جس کے تحت وہ عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور سرکاری خدمات میں سرمایہ کاری بڑھانا چاہتے ہیں۔
چینی وزارتِ تجارت کے مطابق اس دورے کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکن نے کہا کہ چین اس دورے کو چین برطانیہ تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کے ایک نئے باب کے طور پر دیکھتا ہے۔
مغربی رہنماؤں کے ملے جلے تجرباتواضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں کئی مغربی رہنما چین کا دورہ کر چکے ہیں، تاہم نتائج مختلف رہے ہیں۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے چین کے ساتھ ایک اقتصادی معاہدہ کیا، جس کے بعد ٹرمپ نے کینیڈا پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے دورے سے نمایاں معاشی فوائد حاصل نہ ہو سکے۔
ناقدین کا مؤقف: امریکا کا نعم البدل مشکلچین اسٹریٹجک رسکس انسٹیٹیوٹ لندن کے پالیسی ڈائریکٹر سیم گڈمین کے مطابق، برطانیہ کو چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے باوجود اب تک خاطر خواہ معاشی فوائد حاصل نہیں ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ چین برطانیہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا صرف 0.
’اصل سوال یہ ہے کہ اس دورے کا عملی فائدہ کیا ہوگا؟ کیا اس سے واقعی برطانوی معیشت میں نمایاں بہتری آئے گی؟‘
سیکیورٹی خدشات بھی موجوداسٹارمر کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ان کی حکومت نے لندن میں چین کے متنازع میگا ایمبیسی منصوبے کی منظوری دی، جس پر بعض سیاستدانوں نے جاسوسی کے خدشات ظاہر کیے تھے۔
گزشتہ ماہ اسٹارمر نے واضح کیا تھا کہ چین برطانیہ کے لیے قومی سلامتی کے خطرات بھی رکھتا ہے، تاہم ان کے بقول قریبی تجارتی تعلقات قومی مفاد میں ہیں۔
یہ دورہ ایسے حساس عالمی ماحول میں ہو رہا ہے جب امریکا اور مغربی اتحادیوں کے تعلقات خود دباؤ کا شکار ہیں، خاص طور پر ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ امریکا کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہیے کیونکہ چین آرکٹک خطے میں خطرہ بن رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر چین برطانیہ تعلقات چینی صدر شی جن پنگ چینی وزیراعظم لی چیانگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر چین برطانیہ تعلقات چینی صدر شی جن پنگ چینی وزیراعظم لی چیانگ سرمایہ کاری چین برطانیہ چین کے ساتھ کے مطابق کہ چین رہا ہے کے بعد
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ