پی این ایس سی کے بیڑے میں نیا آئل ٹینکر شامل، کراچی کی بندرگاہ پر پہنچا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے بیڑے میں ایک نیا آئل ٹینکر شامل کر دیا گیا ہے۔
نیا آئل ٹینکر ایم ٹی کراچی اپنا پہلا کارگو لے کر کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ یہ ٹینکر نیشنل ریفائنری کے لیے خلیجی ممالک سے خام تیل لے کر آیا ہے۔
بیڑے میں اس نئے شامل ہونے والے جہاز کے بعد پی این ایس سی کے بحری جہازوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ آئل ٹینکر کی خریداری کی مالیت 74 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔
پی این ایس سی کے حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ مزید دو بحری جہاز بھی بیڑے میں شامل کیے جائیں گے، جس سے کمپنی کی ملکی تیل کی ترسیل کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی این ایس سی ا ئل ٹینکر بیڑے میں
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔