بالی ووڈ کے مشہوربھوشن کمار نے وضاحت کی ہے کہ اکشے کمار کو فلم ’دھرندھر‘ کی کامیابی کے بعد ’بارڈر ٹو‘ میں شامل نہیں کیا گیا بلکہ ان کی شمولیت پہلے سے اسکرپٹ کا حصہ تھی۔ 

بھارتی میڈیا میں اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے لیاری پر بنائی بالی ووڈ کی متنازع فلم ’دھرندھر‘ میں ’رحمان ڈکیت‘ کا کردار ادا کرنے والے اکشے کھنہ کو فلم کی کامیابی کے بعد ’بارڈر ٹو‘ میں شامل کیا گیا ہے۔ 

یاد رہے کہ پاکستان کے خلاف پروپینگڈہ پر مبنی اداکارہ سنی دیول کی فلم بارڈر کا سیکوئل ’بارڈر ٹو‘ 23 جنوری کو سینما گھروں میں ریلیز ہوئی جو اس وقت بھارت بھر میں فلم دھرندھر کا ریکارڈ بھی توڑ رہی ہے۔ 

فلم بارڈر ٹو میں سنی دیول کے علاوہ، دلجیت دوسانجھ، ورون دھون، اہان شیٹی سمیت دیگر نامور اداکار شامل ہیں جب کہ آخری میں سنیل شیٹی، اکشے کھنہ، پونیت اسر اور سدیش بیری کو دوبارہ دکھایا گیا، یہ وہ اداکار ہیں جنہوں نے پہلی فلم میں ایسے فوجیوں کا کردار ادا کیا تھا جو شہید ہو گئے تھے۔



فلم دھرندھر کے اداکار گھریلو ملازمہ سے زیادتی کے الزام میں گرفتار



پاکستان مخالف فلم کی ریلیز روک دی گئی، بھارت بھر میں ابتدائی شوز منسوخ

اکشے کھنہ سمیت تمام اداکار کے فلم میں مختصر کردار کے مناظر کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں، اس منظر میں سنی دیول کے کردار، فتح سنگھ کالر، پہلی فلم کے شہدا  کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

اس حوالے سے فلم سازوں نے وضاحت جاری کی کہ یہ خراجِ عقیدت والا منظر ابتدا ہی سے اسکرپٹ کا حصہ تھا اور اسے اکشے کھنہ کی فلم دھرندھر میں کامیابی کے بعد شامل نہیں کیا گیا۔  

فلم کے شریک پروڈیوسر بھوشن کمار کا کہنا تھا کہ اس طرح فلم نہیں بنائی جاتی، یہ منظر پہلے سے اسکرپٹ میں موجود تھا، درحقیقت ہم نے ان کا حصہ دھرندھر کی ریلیز کے بعد شوٹ کیا۔

فلم کے ہدایتکار انوراگ سنگھ نے بتایا کہ ہم نے اکشے کھنہ کا حصہ 10 اور 11 دسمبر کو شوٹ کیا یعنی وہ شروع سے کہانی کا حصہ تھے اور جو لوگ فلم کے اختتام کے بعد بھی بیٹھے رہتے ہیں، انہیں ایک سنہرا لمحہ ملتا ہے۔

واضح رہے کہ بارڈر 2 کی کہانی 1971 کی پاک-بھارت جنگ کے پس منظر میں پیش کی گئی ہے۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اکشے کھنہ بارڈر ٹو کا حصہ فلم کے کے بعد

پڑھیں:

امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام

امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔

U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026

سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
  • بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم