لاہور:

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ بابر اعظم کی پرفارمنس پر سوال مت کریں، وہ اپنا رول اچھے طریقے سے نبھا رہا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ جہاں کنڈیشن ملتی ہے وہاں ہم ضرور جارحانہ کرکٹ کھیلتے ہیں، آسٹریلیا کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز ورلڈ کپ کی تیاری کے حوالے سے اہم ہے۔

ٹی 20 میں کوئی ٹیم بڑی چھوٹی نہیں ہوتی، شارجہ میں افغانستان کو دوسری بہترین ٹیم قرار دیا جا رہا تھا جسے ہم نے ہرایا، پاکستان میں یہی ہوتا ہے جیت جائیں تو دوسری ٹیم کو کمزور قرار دے دیا جاتا ہے۔

صحافی کی جانب سے بابر اعظم کی پرفارمنس سے متعلق سوال پر سلمان علی آغا نے کہا کہ بابر اعظم کے علاوہ بھی سوال کیا کریں، چھوڑ دیں اسکو اور کھیلنے دیں، ٹیم میں باقی 14 کھلاڑی ہیں ان پر بھی بات کرلیا کریں، بابراعظم اپنا رول اچھی طرح نبھا رہا ہے، بگ بیش میں کیا ہوا ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔

کپتان قومی ٹیم نے مزید کہا کہ ہر کھلاڑی کو اپنے رول کا علم ہے کوئی پریشانی نہیں ہے، میچ میں ٹیم کی ضرورت کے مطابق رن ریٹ کے مطابق کھیلنا ضروری ہے، کوشش کی گئی ہے کہ پچز سری لنکا جیسی بنائی جائیں، تمام کھلاڑی اپنی صلاحیت کے مطابق کھیلے تو سیریز جیت سکتے ہیں۔

سلمان علی آغا نے کہا کہ امید ہے قزافی اسٹیڈیم فُل ہوگا، تماشائی آئیں اور ہمیں سپورٹ کریں، ہائی پریشر گیم میں تجربہ کار کھلاڑی بہتر ہینڈل کر سکتا ہے، آسٹریلوی ٹیم چند کھلاڑیوں کے نہ آنے کے باوجود مضبوط ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلمان علی ا غا نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف