پی ایس ایل 11: سلمان آغا اور ابرار احمد سمیت 5 کرکٹرز کی پلاٹینم کیٹیگری میں ترقی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے 11ویں ایڈیشن کے لیے 89 مقامی کھلاڑیوں کی کیٹیگری تجدید کی تصدیق کر دی ہے۔
اس موقع پر پاکستان کے ٹی20 کپتان سلمان علی آغا، صاحبزادہ فرحان، محمد نواز، حسن علی اور ابراراحمد سمیت 5 کھلاڑیوں کو پلاٹینم کیٹیگری میں ترقی دے دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11: فرنچائزز کی جانب سے ری ٹین کیے گئے کھلاڑیوں کی فہرست جاری
آئندہ ہر فرنچائز زیادہ سے زیادہ 4 کھلاڑی برقرار رکھ سکے گی، تاہم ہر کیٹیگری سے صرف ایک کھلاڑی کو برقرار رکھنے کی اجازت ہو گی۔
ریٹینشن کے مرحلے کے بعد ٹیمیں بدھ 11 فروری کو پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی ایچ بی ایل پی ایس ایل پلیئر نیلامی میں اپنی ٹیمیں مکمل کریں گی۔
???? THE NEXT GENERATION OF THE New Era ✨
Silver & Emerging Category renewals are officially locked in for the #HBLPSL Player Auction 2026 — paving the way for fresh talent and future stars to shine.
Who are you most excited to see this season?#HBLPSL2026 #PSL… pic.twitter.com/vJkutuNjid
— ????Superior???? (@Danial_Chan1) January 28, 2026
پلاٹینم کیٹیگری میں ترقی پانے والے کھلاڑیوں میں سے صرف صاحبزادہ فرحان اس سے قبل گولڈ کیٹیگری میں شامل تھے، جبکہ دیگر کھلاڑی ڈائمنڈ کیٹیگری سے ترقی پا کر پلاٹینم میں آئے ہیں۔
شاداب خان، نسیم شاہ، عماد وسیم، شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، حارث رؤف، بابر اعظم، صائم ایوب، محمد رضوان، فہیم اشرف اور محمد عامر نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 میں بھی پلاٹینم کیٹیگری میں کھیلنے کے بعد اس مرتبہ بھی اپنی جگہ برقرار رکھی ہے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل 11 کے لیے کھلاڑیوں کی نیلامی کی تاریخ کا اعلان ہوگیا، بیس پرائس بھی طے
ڈائمنڈ کیٹیگری میں مجموعی طور پر 11 کھلاڑی شامل ہیں، جن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز کے 3، لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے 2، پشاور زلمی کا ایک کھلاڑی شامل ہے، جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ کا کوئی کھلاڑی اس کیٹیگری میں شامل نہیں۔
محمد سلمان مرزا، سفیان مقیم اور محمد وسیم جونیئر وہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے گولڈ سے ڈائمنڈ کیٹیگری میں ترقی حاصل کی ہے۔
مزید پڑھیں: شعیب ملک کا پی ایس ایل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
اس سال گولڈ کیٹیگری میں شامل 32 کھلاڑیوں میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے 4، کراچی کنگز کے 8، پشاور زلمی کے 6 اور ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مجموعی طور پر 10 کھلاڑی شامل ہیں۔
سلور کیٹیگری میں ملتان سلطانز کے 7، لاہور قلندرز کے 3، پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے 2، جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور کراچی کنگز 2 کھلاڑی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل 11: غیرملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا گیا
ایمرجنگ کیٹیگری میں 14 کھلاڑی شامل ہیں، جن میں اسلام آباد یونائیٹڈ، کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے 3، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز کے 2، جبکہ لاہور قلندرز کا ایک کھلاڑی شامل ہے۔
حنین شاہ، عبید شاہ، مرزا مامون امتیاز، محمد نعیم اور محمد عذاب نے ایمرجنگ سے سلور کیٹیگری میں ترقی حاصل کی ہے، جبکہ حسن نواز نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 میں ایمرجنگ کیٹیگری میں کھیلنے کے بعد اس بار گولڈ کیٹیگری میں جگہ بنا لی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابرار احمد پاکستان پشاور زلمی پلاٹینم کیٹیگری پی ایس ایل حسن علی سپر لیگ سلمان علی آغا صاحبزادہ فرحان لاہور قلندرز محمد نواز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پشاور زلمی پلاٹینم کیٹیگری پی ایس ایل حسن علی سپر لیگ سلمان علی ا غا لاہور قلندرز محمد نواز اسلام آباد یونائیٹڈ پلاٹینم کیٹیگری میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیٹیگری میں ترقی کھلاڑی شامل ہیں لاہور قلندرز ملتان سلطانز پی ایس ایل 11 کھلاڑیوں کی پشاور زلمی کراچی کنگز ایچ بی ایل
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔