حکومت کا پنجاب میں کم عمر بچوں کے لیے موٹرسائیکل چلانے کی اجازت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پنجاب میں ٹریفک قوانین سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے موٹر وہیکلز ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت صوبے میں کم عمر ڈرائیونگ سے متعلق پالیسی میں نمایاں تبدیلی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اس تجویز کی منظوری دی گئی کہ 16 سال کی عمر مکمل کرنے والے افراد کو موٹرسائیکل چلانے کی اجازت دی جائے، تاہم اس اجازت کو مکمل آزادی کے بجائے ایک باقاعدہ قانونی دائرہ کار میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس مقصد کے لیے نابالغ موٹرسائیکل سواروں کے لیے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف کرانے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
بل کے متن کے مطابق 16 سے 18 سال کی عمر کے موٹرسائیکل سواروں کے لیے ایک الگ اور واضح قانونی فریم ورک ترتیب دیا جائے گا، جس کے تحت ڈرائیونگ کے لیے مخصوص شرائط، نگرانی کے اصول اور حفاظتی تقاضوں پر عمل درآمد لازم ہوگا، جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعلقہ لائسنسنگ اتھارٹی کے ذریعے جاری کیا جائے گا، جبکہ اس اجازت نامے کے اجرا اور استعمال پر سخت قواعد لاگو ہوں گے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق اس قانون سازی کا بنیادی مقصد کم عمر افراد کی بغیر لائسنس ڈرائیونگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کنٹرول کرنا، سڑکوں پر نظم و ضبط قائم کرنا اور ٹریفک حادثات میں کمی لانا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مناسب تربیت، نگرانی اور قانونی ضوابط کے ذریعے کم عمر موٹرسائیکل سواروں کو محفوظ انداز میں ڈرائیونگ کی اجازت دی جا سکے گی۔
اس ضمن میں موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں ترمیم کی تجویز بھی بل کا حصہ ہے۔ قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد یہ بل پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں منظوری کی صورت میں اسے باضابطہ قانون کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔