نجی وسرکاری عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائیگا ، محمد یوسف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مٹیاری (نمائندہ جسارت)آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات، تمام نجی و سرکاری عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر مٹیاری محمد یوسف شیخ نے کہا ہے کہ قدرتی اور انسانی عوامل کے باعث پیدا ہونے والی آفات، خصوصاً آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی رابطہ اور ہم آہنگی نہایت ضروری ہے، جبکہ حفاظتی اقدامات، فائر سیفٹی آڈٹ اور ماحولیاتی قوانین پر ہر صورت سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے یہ بات ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA) مٹیاری کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جو ڈپٹی کمشنر سیکریٹریٹ مٹیاری کے لطیف ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع کے تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ضلع کی تمام نجی و سرکاری کمرشل عمارتوں، شاپنگ سینٹرز، بڑی عوامی اور سرکاری عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ تحصیل فائر سیفٹی آڈٹ کمیٹیوں کے ذریعے جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ آگ بجھانے کے آلات، ایمرجنسی راستوں، وائرنگ اور حفاظتی انتظامات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتی جانوں اور املاک کو محفوظ بنایا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام کے لیے پیشگی منصوبہ بندی، آگاہی مہم اور باقاعدہ نگرانی نہایت اہم ہے، اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں بہار کے موسم میں شجرکاری مہم پر بھی غور کیا گیا، جس پر ڈویژنل فاریسٹ آفیسر سوشل فاریسٹری مٹیاری کو ہدایت دی گئی کہ شجرکاری کے حوالے سے جامع ایکشن پلان اور تفصیلات اجلاس میں پیش کی جائیں۔اس موقع پر سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 ء پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے فیصلے بھی کیے گئے، جبکہ ماحولیاتی آلودگی، غیر قانونی سرگرمیوں اور سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف مؤثر کارروائی پر زور دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر محمد یوسف شیخ نے کہا کہ ضلع کی سطح پر آفات کی روک تھام اور بہتر انتظام کے لیے تمام اداروں کو اپنی ذمے داریاں دیانتداری سے ادا کرنا ہوں گی، اور واضح کیا کہ تمام متعلقہ افسران کے لیے ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت لازمی تھی، جبکہ کسی ماتحت نمائندے کو اجازت نہیں دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فائر سیفٹی ا ڈٹ ڈپٹی کمشنر اجلاس میں کے لیے
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں