میکسیکو میں قدیم مقبرے سے 1,400 سال پرانا موت کا مجسمہ دریافت
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میکسیکو کے سان پیبلو ہوئیٹزو میں آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے ایک حیران کن دریافت کی ہے جس میں تقریباً 1400 سال سے گمشدہ ایک پراسرار مقبرہ سامنے آیا ہے، جس کے اندر ایک مجسمہ رکھا ہے جو موت اور شب و روز کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین آثارِ قدیمہ ابتدائی طور پر علاقے میں لُوٹ مار کے ایک کیس کی تحقیق کے لیے آئے تھے، لیکن اچانک اس قدیم مقبرے سے روبرو ہو گئے۔ حکام کے مطابق یہ دریافت ملک کی وزارتِ ثقافت کے تحت گزشتہ دہائی میں سامنے آنے والی سب سے اہم آثارِ قدیمہ کی تحقیق قرار دی گئی ہے۔
تاریخی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقبرہ چھٹی صدی عیسوی یعنی تقریباً 600 عیسوی کا ہے، جو قدیم زیپوٹیک تہذیب کے آغاز سے چند دہائی قبل کا تعلق رکھتا ہے۔ زیپوٹیک ثقافت تقریباً 700 عیسوی میں پروان چڑھی اور 900 عیسوی میں بتدریج زوال پذیر ہوئی جبکہ 1521 میں ہسپانوی حملوں کے نتیجے میں مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ آج بھی تقریباً آٹھ لاکھ افراد اپنے آپ کو زیپوٹیکس کے طور پر شناخت کرتے ہیں۔
مقبرے میں موجود باقیات کو محفوظ حالت میں دیکھ کر ماہرین آثارِ قدیمہ حیران رہ گئے۔ خاص طور پر ایک الّو کا مجسمہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی کھلی آنکھیں اور اس کے چہرے پر مہر بند چونج اس وقت کے کسی معزز شخص کی نمائندگی کرتی ہے, الّو رات اور موت کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے اور یہ روحانی و ثقافتی نقطہ نظر سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
یہ دریافت نہ صرف قدیم تہذیب کے راز فاش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ ماہرین کے لیے انسانی تہذیب کی پیچیدگی اور روحانی علامتوں کی مطالعہ کا ایک نادر موقع بھی پیش کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔