وزیراعظم شہباز شریف سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گیٹس فاؤنڈیشن کے صدر برائے عالمی ترقی کرس ایلیاس نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی جس میں پاکستان میں انسدادِ پولیو کی کوششوں اور باہمی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں پولیو کے مکمل سدباب تک بل گیٹس فاؤنڈیشن جیسے قابلِ اعتماد شراکت داروں کے تعاون سے اقدامات جاری رکھے جائیں گے، پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے بل گیٹس کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور اس ضمن میں مسلم برادر ممالک خصوصاً سعودی عرب کے تعاون پر بھی پاکستان شکر گزار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت جامع حکمت عملی اور مؤثر ٹیم کے ساتھ عملی اقدامات کر رہی ہے اور پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، خاطر خواہ کامیابیوں کے باوجود اس بیماری کے خلاف جنگ میں ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت پولیو ٹیموں کی ملک بھر میں رسائی یقینی بنانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت کام کر رہی ہے اور انسدادِ پولیو سے متعلق منصوبے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت جاری رکھے جائیں گے۔انہوں نے وفاقی وزارتِ صحت کو ہدایت کی کہ انسدادِ پولیو، عوامی آگاہی اور ویکسین کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر سفارشات مرتب کی جائیں۔ملاقات کے دوران گیٹس فاؤنڈیشن کے صدر برائے عالمی ترقی کرس ایلیاس نے وزیراعظم پاکستان کی انسدادِ پولیو پر ذاتی توجہ اور مؤثر عملی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے درست سمت میں گامزن ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گیٹس فاؤنڈیشن پولیو کے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے