رشوت کیس: جنوبی کوریا کی سابق خاتونِ اول کو قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیول :جنوبی کوریا کی عدالت نے سابق خاتونِ اول کم کیون ہی کو رشوت لینے کے جرم میں قید کی سزا سنا دی ہے، جس کے بعد ملکی سیاست اور عدالتی تاریخ میں ایک اہم موڑ سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے سابق خاتونِ اول کو رشوت کے مقدمے میں ایک سال اور آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی، انہیں دیگر سنگین الزامات سے بری کر دیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سابق خاتونِ اول ہی پر ثابت ہوا کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ناجائز فوائد حاصل کیے جو ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے اس جرم کو سنجیدہ نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی اعتماد رکھنے والے عہدوں سے وابستہ افراد کے لیے شفافیت اور دیانت داری ناگزیر ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے سابق خاتونِ اول کو اسٹاک قیمتوں میں ہیرا پھیری اور سیاسی فنڈز کے قانون کی خلاف ورزی سے متعلق الزامات سے بری کر دیا، ان الزامات کے حق میں پیش کیے گئے شواہد سزا کے لیے کافی نہیں تھے، اس لیے ان نکات پر کم کیون ہی کو شک کا فائدہ دیا گیا۔
اس مقدمے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ سابق خاتونِ اول کے شوہر اور جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول پہلے ہی 2024 میں مارشل لا کے متنازع اعلان اور اس سے جڑے اقدامات کے باعث جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ یہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی سابق صدر اور ان کی اہلیہ کو ایک ہی وقت میں مختلف مقدمات میں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
عدالتی فیصلے کے بعد سابق خاتونِ اول کم کیون ہی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کو عاجزی کے ساتھ قبول کرتی ہیں، وہ ایک بار پھر قوم سے دلی معذرت کرتی ہیں کہ ان کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، یہ معاملہ ملک میں قانون کی بالادستی کو مزید مضبوط کرے گا۔
واضح رہے کہ کم کیون ہی اس سے قبل اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتی رہی تھیں اور ان کا مؤقف تھا کہ انہیں سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، عدالت کے حالیہ فیصلے نے اس معاملے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جس پر جنوبی کوریا میں سیاسی اور عوامی سطح پر بھرپور بحث جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا سابق خاتون کم کیون ہی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔