اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے آج ایک طویل پریس کانفرنس کی جس میں غزہ کے مستقبل کے حوالے سے اپنا منصوبہ پیش کیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے دھمکی دی کہ اسرائیلی فوج  دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک پورے علاقے پر سیکیورٹی کنٹرول رکھے گا جس میں غزہ بھی شامل ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو سے قبل حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنا اور سرنگوں سمیت اس کے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔

انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ پر سیکیورٹی کنٹرول ہماری فوج کا رہے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم کی یہ پریس کانفرنس اس وقت ہوئی جب غزہ سے آخری مقتول اسرائیلی یرغمالی ران گویلی کی لاش اسرائیل سے واپس لائی گئی۔

اس غزہ جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا۔ حماس نے اسرائیل کو تمام زندہ یرغمالیوں کو واپس کردیا اور ہلاک ہوجانے والے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس کردیں۔

جس کے بدلے میں اسرائیل نے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا اور درجن سے زائد کی میتیں واپس کی ہیں۔

ہے۔ ساتھ ہی یرغمالیوں کے بحران کا پہلا مرحلہ اختتام کو پہنچا۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ فوجی اور سفارتی دباؤ کے امتزاج سے تمام یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہوئی۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نے مزید بتایا کہ مصر سے ملحق رفح کراسنگ جلد دونوں طرف کے لیے کھولی جائے گی تاہم وہاں سے صرف لوگوں کی آمد و رفت ہوگی سامان لانے لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ روزانہ تقریباً 50 افراد اور ان کے اہلِ خانہ کو داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے اور تمام افراد کی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی۔ کسی کو غزہ چھوڑنے سے نہیں روکیں گے۔

اسرائیلی وزراعظم نیتن یاہو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خود مختار اور علیحدہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دی جائے گی۔

انہوں نے قطر اور ترکی کے کسی بھی فوجی کردار کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے فوجی غزہ میں تعینات نہیں ہوں گے۔

نیتن یاہو کے بقول غزہ کی سول انتظامیہ کے لیے قائم ٹیکنوکریٹ کمیٹی پر بھی اسرائیل کی سخت جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ حماس کے عسکری ونگ سے وابستہ افراد شامل نہ ہوں۔

امریکی صدر کے حملے کی دھمکی اور اس پر ایرانی ردعمل کے خدشات کے تناظر میں نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ایسا سخت ردعمل دیں گے جیسا یران نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

اسرائیل میں جاری سیاسی بحران اور اتحادیوں کے اختلافات کے باوجود نیتن یاہو نے کہا کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کو نئے انتخابات کی ضرورت نہیں۔

انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بجٹ اور یہودی مذہبی طلبا کی فوجی سروس سے استثنیٰ کا بل منظور ہو جائے گا۔

حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی ذمہ داری کے سوال پر نیتن یاہو نے کہا کہ اصل حقائق سامنے آنے کے بعد ہی ذمہ داریوں کا تعین ہونا چاہیے۔

انھوں نے ایک ایسے تحقیقاتی کمیشن کی بات کی جسے حکومت اور اپوزیشن مل کر تشکیل دیں، تاہم اپوزیشن ایک خودمختار ریاستی کمیشن کا مطالبہ کر رہی ہے۔

 .

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو نے انھوں نے حماس کے کہا کہ

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل