اسلام آباد:

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے خوراک، توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے 66 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ کی زیرصدارت ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو کے 5 لاکھ میٹرک ٹن ذخائر نیلام کیے جائیں گے تاکہ اسٹوریج اخراجات میں کمی آئے اور گندم کی قیمتوں میں استحکام رہے۔

اجلاس میں حکومت پنجاب کو  آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن پاسکو گندم فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

ای سی سی نے پاکستان پوسٹ آفس کے ذمے یوٹیلیٹی کمپنیوں کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 10 ارب 98 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی۔

بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کو 29 ارب 66 کروڑ 30 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔

ای سی سی نے درآمدی یوریا پر سبسڈی وفاق اور صوبوں کے درمیان ففٹی ففٹی کے تناسب سے تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے 23 ارب 42 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جن میں سے 15 ارب روپے وفاقی حکومت جاری کرے گی۔

وزارت ہاؤسنگ کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ارب 90 کروڑ روپے اور کیڈٹ کالج حسن ابدال کے لیے 15 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی۔

اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ضبط کیے گئے سولر پینلز گلگت بلتستان حکومت کو فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کروڑ روپے کی منظوری روپے کی کے لیے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف