پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی سے سابق اپوزیشن لیڈر عمرایوب اور شبلی فراز مستعفی ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی سے سابق اپوزیشن لیڈر عمرایوب اور شبلی فراز مستعفی ہوگئے WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی سے سابق اپوزیشن لیڈر عمرایوب اور شبلی فراز مستعفی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر بیان جاری کیا، جس میں کہا کہ میں نے پی ٹی آئی پولیٹیکل کمیٹی میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔
عمر ایوب نے لکھا کہ قانونی اور سیاسی مصروفیات کے باعث پولیٹیکل کمیٹی میں کردار ادا کرنا ممکن نہیں، پولیٹیکل کمیٹی کی رکنیت صرف موجودہ عہدیداران تک محدود ہونی چاہیے۔عمر ایوب نے کہا کہ عمران خان کا کارکن تھا، ہوں اور رہوں گا۔پی ٹی آئی رہنما نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو پولیٹیکل کمیٹی میں شامل کرنے کی سفارش بھی کردی۔اسی طرح شبلی فراز نے بھی سیاسی کمیٹی سے مستعفی ہوتے ہوئے شمولیت سے معذرت کرلی۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماوں نے استعفی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو ارسال کردیا، دونوں رہنماوں نے سیاسی کمیٹی میں موجودہ آفس ہولڈرز شامل کرنے کی تجویز دے دی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور چین میں معدنیات کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کیا جانا چاہئے ،چینی سفیر پاکستان اور چین میں معدنیات کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کیا جانا چاہئے ،چینی سفیر سپین نے 5لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کر لیا قائم مقام صدرِ یوسف رضا گیلانی سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات آر آئی یو جے کے سالانہ انتخابات ، آصف بشیر چوہدری صدر منتخب ہو گئے عمران خان کو طبیعت خرابی کے سبب اسپتال لایا گیا اور اہل خانہ کو بتایا تک نہیں، اپوزیشن اتحاد عمران خان کے سوا کسی اور میں ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرات نہیں، سہیل آفریدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سابق اپوزیشن لیڈر سیاسی کمیٹی سے شبلی فراز پی ٹی آئی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :