کاروباری طبقے پر اعتماد، معیشت کو بحال کرنے کے لیے اہم اقدامات کررہے ہیں، چیئرمین نیب
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی :چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیراحمد نے کراچی میں کاروباری طبقے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے کاروباری طبقے کا حوصلہ بے مثال ہے اور وہ ناانصافیوں کے باوجود ڈٹا ہوا ہے، جس کے ذریعے پاکستان اپنے تمام قرض اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ کاروباری طبقے کی پریشانیوں اور چیلنجز کا ادراک ہے، کاروباری اعتماد بہتر نہیں، ٹیکسوں کے مسائل اور سکیورٹی کی صورتحال بھی اعتماد پر اثر ڈال رہی ہے حالانکہ یہ معاملات براہِ راست نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کاروباری مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
نذیراحمد نے مزید کہا کہ پاکستان میں 25 کروڑ آبادی میں 65 فیصد نوجوان ہیں اور ملک خوراک پیدا کرنے کے لحاظ سے امیر ہے، ایندھن اور کھانے کے تیل کی درآمد ضروری ہے، مئی کے بعد پاکستان کی دنیا میں نئی شناخت سامنے آئی ہے اور اگلے دو سال معیشت کے لیے اہم ہوں گے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کی مشکل کو عوام کے سامنے نہیں لایا جائے گا لیکن قومی ایجنڈا کے طور پر اس سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا ضروری ہے۔
چیئرمین نیب نے کاروباری طبقے کو یقین دلایا کہ ان کی مشاورت سے کام کریں گے اور وسائل فراہم کیے جائیں گے، کراچی کا نیا چہرہ ابھرے گا اور شہر کے ذریعے پاکستان تمام قرض اتار سکتا ہے، وسط اپریل اور مئی تک ملک کے ریزرو 40 سے 48 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے اور نئی معاشی آئیڈیاز پر کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیب نے گزشتہ تین سال میں 12.
چیئرمین نیب نے کاروباری طبقے پر زور دیا کہ معیشت کے پہیے کو چلانا اولین ترجیح ہے کیونکہ اس سے تمام مسائل حل ہوں گے اور لوگوں کو نوکریوں سے نہیں نکالا جائے گا، بنگلا دیش سے بھائی کی سازش ناکام ہوئی اور بھائی کے ساتھ بھائی کی شراکت سے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کاروباری طبقے چیئرمین نیب
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔