غزہ: اسرائیلی بمباری سے 4 فلسطینی شہید، سردی سے 11 بچے دم توڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیلی فورسز کی غزہ بھر میں جارحیت تھم نہ سکی، صیہونی فوج کے غزہ میں زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران اسرائیلی بربریت میں 4 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ شدید سردی کے باعث 24 گھنٹے میں 11 بچے جان کی بازی ہار گئے۔
مجموعی طور پر 71 ہزار 662 شہادتیں اور ایک لاکھ 71 ہزار 428 زخمی ہوئے، اسرائیلی فورسز کی مقبوضہ مغربی کنارے میں پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔
صیہونی فورسز نے الخلیل، قلقیلیہ، بیت لحم اور نابلس سے درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔
حماس عہدیدار حسام بدران نے کہا کہ پہلے مرحلے کی جنگ بندی ک تمام شرائط پوری کی گئی ہیں، اسرائیل رفاہ کراسنگ کھولنے اور قبضہ شدہ علاقوں سے انخلا میں تاخیر کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے فوری نفاذ اور غزہ کی بحالی کیلئے امداد کی ترسیل کی ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔