data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک :اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے امریکا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کا جواب ایسا ہوگا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیا گیا ہوگا،تہران بات چیت پر یقین رکھتا ہے، دباؤ، دھمکیوں اور فوجی جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایک بیان میں ایرانی مشن کا کہنا تھا کہ ایران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اگر امریکا کی جانب سے دباؤ بڑھایا گیا یا فوجی کارروائی کی گئی تو ایران خاموش نہیں رہے گا، ایران کسی بھی حملے کی صورت میں ایسا جواب دے گا جو اس سے قبل دنیا نے نہیں دیکھا ہوگا۔

ایرانی مشن نے اپنے بیان میں امریکا کی ماضی کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آخری مرتبہ جب امریکا نے عراق اور افغانستان میں جنگ کا آغاز کیا تو اسے بھاری مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا، ان جنگوں میں امریکا کو تقریباً 7 کھرب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا جبکہ 7 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ ایرانی مشن نے خبردار کیا کہ تاریخ سے سبق سیکھنا ہی دانشمندی ہے۔

یہ بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیا گیا، جس کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک پوسٹ کا اسکرین شاٹ بھی منسلک تھا۔ اس پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کی طرف بڑھنے والے اس بحری بیڑے کی قیادت عظیم طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے جو وینیزویلا بھیجے گئے بحری بیڑے سے بھی بڑا ہے، یہ بحری بیڑا ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنا مشن فوری طور پر مکمل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کی خواہش ہے کہ ایران جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے اور ایک منصفانہ و مساوی معاہدے پر بات چیت کرے، امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، تاہم ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان