امریکا میں برفانی طوفان کا سلسلہ نہ تھم سکا، مختلف حادثات میں ہلاکتیں 38 ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں برفانی طوفان کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور مختلف حادثات کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 38 ہو گئی ہے۔
واشنگٹن، نیویارک سمیت درجنوں ریاستوں میں یخ بستہ ہواؤں کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور شدید برفباری ہو رہی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق خراب موسم کے باعث پیش آنے والے حادثات میں اب تک 38 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں سے 10 ہلاکتیں صرف نیویارک میں رپورٹ ہوئی ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ہر طرف برف کی سفید چادر بچھی ہوئی ہے، جبکہ وفاقی دفاتر مسلسل دوسرے روز بھی بند رہے۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران 16 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں اور ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ صارفین بجلی سے محروم ہیں۔
شمالی ریاستوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک گر چکا ہے اور رپورٹس کے مطابق یکم فروری تک درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب کینیڈا میں بھی شدید برفباری جاری ہے، جس کے باعث ٹورنٹو اور جنوبی اونٹاریو برف سے ڈھک گئے ہیں۔ خراب موسم کے سبب اسکول بند کر دیے گئے جبکہ ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئیں۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔