عمران خان کو اسپتال لائے جانے سے متعلق خبر کی تصدیق یا تردید کی پوزیشن میں نہیں، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھ کے انفیکشن کے معائنے کے لیے اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لائے جانے سے متعلق خبر کا ابھی انتظار کیا جائے، اگر یہ خبر درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس انقلاب کے بجائے اب صرف ہمدردی کارڈ رہ گیا ہے، میں ابھی اس خبر کی تصدیق یا تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ عمران خان کو آنکھ کے آپریشن کے لیے پمز لایا گیا، اس حوالے سے جو بھی حقیقت ہوگی، پوری کی پوری بیان کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سنسنی پھیلانے کے بجائے انتظار کیا جائے، حکومت خبر کی تصدیق یا تردید کرے گی، عمران خان کی صحت اور زندگی کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، ان کے بچوں سے بات نہیں کروائی جاتی، یہ پورا ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے باقی سارے بیانیے ناکام ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اسپتال لایا گیا مگر صحت سے متعلق کچھ بتایا نہیں جا رہا، اپوزیشن اتحاد کا اظہار تشویش
ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کو اسپتال لائے جانے سے متعلق خبر درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے اور عمران خان کی صحت کا خیال رکھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آپریشن اسپتال آنکھ پمز طلال چوہدری عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپتال ا نکھ طلال چوہدری عمران خان کو طلال چوہدری
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔