اٹلی:سیاحتی جزیرے سسلی میں ہولناک لینڈسلائیڈنگ، کئی کلومیٹر رقبے میں زمینی دھنساؤ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اٹلی کے عالمی شہرت یافتہ سیاحتی جزیرے سِسلی میں شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں مٹی کے بڑے بڑے تودے گرنے کے ہولناک واقعات رونما ہوئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سسلی بھی طوفان ہَیری سے بری طرح متاثر ہونے والا علاقہ ہے بدترین موسلا دھار بارشوں نے بھرپور طاقت سے سسلی کی زمین کو کمزور کردیا۔
جس کے نتیجے میں تقریباً 4 کلومیٹر طویل علاقے میں ایک بڑی سرنگ نما دھنساؤ واقع ہوگیاب اور درجنوں گھروں، گاڑیوں اور سڑکوں کو گہری کھائی کے کنارے پر لٹکا دیا۔
لینڈ سلائیڈنگ سے پیدا ہونے والے گہرے گڈھے کے کنارے لٹکے متعدد گھر اور ان میں سے گاڑیاں ایک ایک کرکے کھائی میں گرتی رہیں۔
یہ دل دہلادینے والے مناظر اطالوی جزیرے سِسلی کے نیسچیمی قصبے کے ہیں۔ جہاں زمین مسلسل دھنستی جا رہی تھی اور گھر گاڑیاں خطرناک طریقے سے لٹکے ہوئے تھے۔
اس سنگین صورت حال پر مقامی حکام نے ہزار سے زائد افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور علاقے کو ’’نو گو زون‘‘ قرار دیدیا گیا۔
بروقت ریسکیو اقدامات اور موسم کی درست پیشن گوئی کے باعث تاحال کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے تاہم مکانات دوبارہ قابلِ استعمال نہیں رہے۔
خیال رہے کہ یہ قصبہ سمندر سے قریب 28 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کا رقبہ ریت اور مٹی کے مرکب پر ہے۔
شدید بارش کے بعد ایسی زمین کے دھنسنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ علاقہ پہلے بھی ماضی میں زمین کے دھنسنے کا شکار رہا ہے۔
اطالوی حکومت نے سِسلی سمیت دیگر جنوبی علاقوں کے لیے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور ابتدائی طور پر 100 ملین یورو امداد مختص کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔