سانحہ گل پلازہ کو بچے سے جوڑ کر سندھ حکومت و قابض میئر جان نہیں چھڑا سکتے، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
میڈیا سے گفتگو میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے کہا کہ ہمارا پہلے دن سے مطالبہ ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ میں خوفناک آگ کو بچے سے جوڑ کر سندھ حکومت و قابض میئر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت یکم فروری کو 3 بجے دن کراچی میں شاہراہ فیصل پر ہونے والے عظیم الشان اور تاریخی ”جینے دو کراچی مارچ“ کے سلسلے میں حیدری مارکیٹ پر قائم کیمپ کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے تاجروں و دوکانداروں سے ملاقاتیں کیں اور ان کو مارچ میں شرکت کی دعوت دی، تاجروں نے ”جینے دو کراچی مارچ“ کی مکمل حمایت و تائید کرتے ہوئے مکمل تعاون اور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔
میڈیا سے گفتگو میں منعم ظفر خان نے کہا کہ گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی اور 80 سے زائد انسانی جانوں، املاک اور مال کے ضیاع کو ایک بچے سے جوڑ کر سندھ حکومت، قابض میئر اپنی ذمہ داری سے جان نہیں چھڑا سکتے، کمشنر کراچی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی فراڈ ہے، خود اس کے ذمہ دار اور جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کا پہلے دن سے مطالبہ ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چار دن تک آگ لگی رہی، حکومتی ادارے انتظار کرتے رہے کہ خود بجھ جائے، سندھ حکومت، میئر کراچی اور اداروں کی نااہلی سب کے سامنے ہے، کراچی کو لاوارث شہر بنا دیا گیا ہے، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گی، کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ جماعت اسلامی سندھ حکومت نے کہا کہ کراچی کے انہوں نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔