Jasarat News:
2026-07-23@23:32:34 GMT

پائیدارمعاشی ترقی کے لیے کاروباری لاگت میں کمی ناگزیرہے

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان اور پالیسی ایڈوائزری بورڈ ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے وزارتِ خزانہ کی جنوری 2026ء کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک میں سامنے آنے والے مثبت معاشی اشاریوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدارمعاشی ترقی کے لیے فوری طور پرکاروباری لاگت میں کمی ناگزیرہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ جنوری میں مہنگائی کی شرح 5 تا 6 فیصد تک آنے کا امکان موجودہ حکومت کی مالی نظم وضبط اوربہترپالیسیوں کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے پانچ ماہ میں جی ڈی پی کا 0.

8 فیصد مجموعی مالیاتی سرپلس گزشتہ خساروں کے مقابلے میں ایک نمایاں کامیابی ہے۔ جبکہ بڑی صنعتوں (LSM) میں 6 فیصد اضافہ اور زرعی شعبے کی 2.9 فیصد ترقی حوصلہ افزا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مالی سال 26-2025 کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.75 تا 4.75 فیصد تک بڑھایا ہے، تاہم ان اہداف کے حصول کا دارومدارشرحِ سود میں کمی پرہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہرکیا کہ پہلی ششماہی میں غیرملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 43.3 فیصد کمی تشویش ناک ہے جس کی بنیادی وجہ خطے کے مقابلے میں مہنگی توانائی اورزیادہ شرحِ سود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پربرقرارہونے کے باوجود افراطِ زر 5 فیصد کے آس پاس ہونے کے باعث شرحِ سود کو سنگل ڈیجٹ تک لانے کے لیے مناسب فضا موجود ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ نجی شعبہ معاشی بحالی میں اپنا بھرپور کردارادا کر رہا ہے مگر بلند شرحِ سود اورناقابلِ برداشت توانائی قیمتوں کے ساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں برآمدات میں 9 فیصد کمی زر مبادلہ کے ذخائر اور حکومت کے اڑان پاکستان پروگرام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ پچھلی ششماہی میں آئی ٹی برآمدات اورترسیلاتِ زر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کوسہارا دینے والے اہم عوامل رہے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ حکومت کواب استحکام سے ترقی کے مرحلے میں داخل ہونا ہوگا اورمالیاتی گنجائش کوصنعتی ویلیوایڈیشن اورٹیکس نیٹ کی توسیع میں استعمال کیا جائے نہ کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال کر۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایسا پالیسی فریم ورک مرتب کیا جائے جو توانائی نرخوں اور مالیاتی لاگت کوکم کرکے صنعتی و معاشی تیز رفتاری کو یقینی بنا3ئے، جس کا فائدہ عام آدمی اورصنعت دونوں کو ملے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: زاہد حسین نے انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان

لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ