Jasarat News:
2026-06-02@20:46:34 GMT

پائیدارمعاشی ترقی کے لیے کاروباری لاگت میں کمی ناگزیرہے

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان اور پالیسی ایڈوائزری بورڈ ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے وزارتِ خزانہ کی جنوری 2026ء کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک میں سامنے آنے والے مثبت معاشی اشاریوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدارمعاشی ترقی کے لیے فوری طور پرکاروباری لاگت میں کمی ناگزیرہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ جنوری میں مہنگائی کی شرح 5 تا 6 فیصد تک آنے کا امکان موجودہ حکومت کی مالی نظم وضبط اوربہترپالیسیوں کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے پانچ ماہ میں جی ڈی پی کا 0.

8 فیصد مجموعی مالیاتی سرپلس گزشتہ خساروں کے مقابلے میں ایک نمایاں کامیابی ہے۔ جبکہ بڑی صنعتوں (LSM) میں 6 فیصد اضافہ اور زرعی شعبے کی 2.9 فیصد ترقی حوصلہ افزا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مالی سال 26-2025 کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.75 تا 4.75 فیصد تک بڑھایا ہے، تاہم ان اہداف کے حصول کا دارومدارشرحِ سود میں کمی پرہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہرکیا کہ پہلی ششماہی میں غیرملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 43.3 فیصد کمی تشویش ناک ہے جس کی بنیادی وجہ خطے کے مقابلے میں مہنگی توانائی اورزیادہ شرحِ سود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پربرقرارہونے کے باوجود افراطِ زر 5 فیصد کے آس پاس ہونے کے باعث شرحِ سود کو سنگل ڈیجٹ تک لانے کے لیے مناسب فضا موجود ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ نجی شعبہ معاشی بحالی میں اپنا بھرپور کردارادا کر رہا ہے مگر بلند شرحِ سود اورناقابلِ برداشت توانائی قیمتوں کے ساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں برآمدات میں 9 فیصد کمی زر مبادلہ کے ذخائر اور حکومت کے اڑان پاکستان پروگرام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ پچھلی ششماہی میں آئی ٹی برآمدات اورترسیلاتِ زر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کوسہارا دینے والے اہم عوامل رہے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ حکومت کواب استحکام سے ترقی کے مرحلے میں داخل ہونا ہوگا اورمالیاتی گنجائش کوصنعتی ویلیوایڈیشن اورٹیکس نیٹ کی توسیع میں استعمال کیا جائے نہ کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈال کر۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایسا پالیسی فریم ورک مرتب کیا جائے جو توانائی نرخوں اور مالیاتی لاگت کوکم کرکے صنعتی و معاشی تیز رفتاری کو یقینی بنا3ئے، جس کا فائدہ عام آدمی اورصنعت دونوں کو ملے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: زاہد حسین نے انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان