علامہ مقصود ڈومکی کی رکن اسمبلی اعجاز جھکرانی سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ملاقات کے موقع پر علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ضلع جیکب آباد میں مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی اتحاد بین المسلمین اور اخوت کی فضا قائم ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ایک وفد کے ہمراہ جیکب آباد کے رکن قومی اسمبلی میر اعجاز حسین خان جکھرانی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈپٹی کمشنر جیکب آباد نواب سمیر حسین لغاری، ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم، مجلس وحدت مسلمین ضلع جیکب آباد کے صدر نظیر حسین جعفری، مجلس علمائے مکتب اہل بیت ضلع جیکب آباد کے صدر علامہ سیف علی ڈومکی، بزرگ شیعہ رہنماء سید احسان علی شاہ بخاری اور جعفریہ الائنس کے ڈویژنل صدر وزیر علی مشہدی بھی موجود تھے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ضلع جیکب آباد میں مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی اتحاد بین المسلمین اور اخوت کی فضا قائم ہے۔ مسائل ہم سب مل بیٹھ کر بہتر ماحول میں حل کرتے ہیں۔ ملاقات کے دوران ضلع جیکب آباد میں مذہبی اور عوامی نوعیت کے مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بالخصوص ضریح پاک امام حسین علیہ السلام سے متعلق درپیش مسائل، عزاداروں کو درکار سہولیات پر سنجیدہ گفتگو کی گئی۔
ایم این اے میر اعجاز حسین خان جکرانی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ مذہبی و عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں گے اور اپنی سطح پر ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ وفد نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کی موجودگی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باہمی تعاون سے مسائل کے حل میں بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔ آخر میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے ایم این اے میر اعجاز حسین خان جکرانی، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی جیکب آباد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اس طرح کی ملاقاتیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ضلع جیکب آباد علامہ مقصود علی ڈومکی ڈومکی نے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔