یاسین ملک کو سزائے موت ،حکومتی ایجنسی کو ہائی کورٹ کی آخری مہلت
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) دہلی ہائی کورٹ نے قتل اور ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں مجرم قرار دیے گئے کشمیر ی رہنما محمد یاسین ملک کو سزائے موت دینے سے متعلق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس نوین چائولہ کی سربراہی والی بنچ نے یاسین ملک کے جواب پر این آئی اے کو اپنا جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 22 اپریل کو ہوگی۔واضح رہے کہ 25 مئی 2022 کو پٹیالہ ہائوس کورٹ نے یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے یو اے پی اے (UAPA) کی دفعہ 17 کے تحت تا حیات قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 18 کے تحت10 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ، دفعہ 20 کے تحت 10 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ اسی طرح دفعہ 38 اور 39 کے تحت 5,5 سال قید اور5 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔اس سے قبل 16 مارچ 2022 کو عدالت نے حافظ سعید، سید صلاح الدین، یاسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عالم، انجینئر رشید، ظہر وٹالی، بٹا کراٹے، آفتاب احمد شاہ، نعیم خان، بشیر احمد بٹ عرف پیر سیف اللہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا تھا۔یاسین ملک اس وقت تہاڑ جیل میں ہے اور کورٹ کی جانب سے تا حیات قید کی سزا سنائے جانے کے بعد این آئی اے نے دوبارہ کورٹ کا رجوع کیا اور یاسین ملک کے لیے سزائے موت کی سفارش کی۔ کورٹ نے اس معاملے میں یاسین ملک سے جواب طلب کیا جس پر اب کورٹ نے این آئی اے کو اپنا جواب طلب کرنے کے لیے آخری مہلت دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: روپے جرمانہ ا ئی اے یاسین ملک کورٹ نے قید اور
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔