یاسین ملک کوسزائےموت،حکومتی ایجنسی کوآخری مہلت
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے قتل اور ٹیرر فنڈنگ کے معاملے میں مجرم قرار دیے گئے کشمیر ی رہنما محمد یاسین ملک کو سزائے موت دینے سے متعلق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی ہے۔
جسٹس نوین چاﺅلہ کی سربراہی والی بنچ نے یاسین ملک کے جواب پر این آئی اے کو اپنا جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 22 اپریل کو ہوگی۔
واضح رہے کہ 25 مئی 2022 کو پٹیالہ ہاﺅس کورٹ نے یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے یو اے پی اے (UAPA) کی دفعہ 17 کے تحت تا حیات قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 18 کے تحت10 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ، دفعہ 20 کے تحت 10 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔
اسی طرح دفعہ 38 اور 39 کے تحت 5,5 سال قید اور5 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 16 مارچ 2022 کو عدالت نے حافظ سعید، سید صلاح الدین، یاسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عالم، انجینئر رشید، ظہر وٹالی، بٹا کراٹے، آفتاب احمد شاہ، نعیم خان، بشیر احمد بٹ عرف پیر سیف اللہ سمیت دیگر ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا تھا۔
یاسین ملک اس وقت تہاڑ جیل میں ہے اور کورٹ کی جانب سے تا حیات قید کی سزا سنائے جانے کے بعد این آئی اے نے دوبارہ کورٹ کا رجوع کیا اور یاسین ملک کے لیے سزائے موت کی سفارش کی۔
کورٹ نے اس معاملے میں یاسین ملک سے جواب طلب کیا جس پر اب کورٹ نے این آئی اے کو اپنا جواب طلب کرنے کے لیے آخری مہلت دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: روپے جرمانہ آئی اے یاسین ملک کورٹ نے قید اور
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔