ایران کو نیتن یاہو کی سخت دھمکی، ایسا جواب دیں گے جو دنیا نے پہلے نہیں دیکھا ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے ایسا جواب دیا جائے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کو حملے کی کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اسرائیل ہر ممکن طاقت اور پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔
انہوں نے فلسطین سے متعلق اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔ نیتن یاہو کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق باتیں ہوتی رہی ہیں، مگر ایسا نہ ماضی میں ہوا اور نہ آئندہ ہونے دیا جائے گا۔
مزید پڑھیںغزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد ہونے کے بعد جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل
بورڈ آف پیس صرف غزہ تک محدود نہیں، بھارت میں تہلکہ مچا ہوا ہے، مشاہد حسین سید
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گا اور یہ پالیسی غزہ کی پٹی پر بھی لاگو رہے گی۔
غزہ میں غیر ملکی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق سوال پر نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل غزہ میں ترک یا قطری فوجیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ اسرائیل نیتن یاہو
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔