تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے ایسا جواب دیا جائے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کو حملے کی کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اسرائیل ہر ممکن طاقت اور پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔

انہوں نے فلسطین سے متعلق اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔ نیتن یاہو کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق باتیں ہوتی رہی ہیں، مگر ایسا نہ ماضی میں ہوا اور نہ آئندہ ہونے دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں

غزہ سے آخری اسرائیلی یرغمالی کی باقیات برآمد ہونے کے بعد جنگ بندی ایک نئے اور مشکل مرحلے میں داخل

بورڈ آف پیس صرف غزہ تک محدود نہیں، بھارت میں تہلکہ مچا ہوا ہے، مشاہد حسین سید

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گا اور یہ پالیسی غزہ کی پٹی پر بھی لاگو رہے گی۔

غزہ میں غیر ملکی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق سوال پر نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل غزہ میں ترک یا قطری فوجیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ اسرائیل نیتن یاہو

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان