data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260128-03-4
غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے قیام کا اعلان تین سے چار ماہ پہلے کیا گیا تھا کہا گیا کہ یہ غزہ بورڈ آف پیس کے تحت کام کرے گا۔ ایگزیکٹو بورڈ کو مشاورتی حیثیت حاصل ہوگی۔ بورڈ آف پیس جس میں پاکستان سمیت ترکیہ قطر اور دیگر 60 ملکوں کو دعوت نامہ بھیجا گیا ساتھ کہا گیا کہ اس بورڈ آف پیس کی شمولیت تین سال سے زیادہ برقرار رکھنے کے خواہاں ملکوں کو ایک ارب ڈالر نقد ادا کرنا پڑیں گے۔ اب تک آٹھ مسلم ممالک نے اس میں شمولیت کی حامی بھری چند دن قبل ان تمام ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس فورم میں شمولیت کے حوالے سے اپنی اپنی حکومتوں کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا اس اعلامیہ کے مطابق رکن ممالک اپنی آئینی اور قانونی ضروریات کے تحت دستاویزات پر دستخط کریں گے۔ اس میں صدر ٹرمپ کی قیادت میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کی اور اپنے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ متعلقہ ممالک بورڈ آف پیس کے مشن پر مکمل عمل درامد کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔ اس منصوبے کا مشن غزہ تنازع کا خاتمہ ہے وہ انتظامیہ کے طور پر یہ یہ کام کریں گے جس کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جا چکی ہے۔
یہ منصوبہ اسرائیلی بمباری کے دو سال بعد تباہ حال غزہ میں امن کے قیام کی کوششوں کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں کہا کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حصول کا باعث بنیں گے اور ایک ایسے قابل اعتماد اور وقت کے تعین شدہ سیاسی عمل کے ذریعے فلسطینی ریاست کو قائم کرے گی جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خود مختار جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست ہو گی جس کا دارالحکومت القدس شریف ہوگا۔ اللہ کرے یہ محض خوش فہمی نہ ہو۔ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اسرائیل اور حماس دونوں کے لیے مشکل راستے ہیں اسرائیل کو غزہ سے اپنی فوجیں نکالنی ہیں اور اس کے لیے سیکورٹی کی ذمے داری انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے سپرد کرنی ہے اور حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ اپنے ہتھیار، فلسطینی ریاست کے حوالے کرنے ہیں جس کے لیے وہ حامی بھر چکے ہیں لیکن قابض اسرائیل ایک یرغمالی کی لاش کو لے کر روڑے اٹکا رہا ہے، یہ ایک اسرائیلی پولیس افسر رین گویری ہے جن کو سات اکتوبر کو طوفان الاقصیٰ کے دوران یرغمال بنایا گیا تھا لیکن اب ان کی لاش غزہ کے ملبے میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی اور نہ ہی ان کا کوئی سراغ مل سکا ہے۔ رین گویری کا قابض اسرائیل کی اپنی بمباری کے باعث انتقال ہوا تھا اب اسی بات کو لے کر نیتن یاہو امن معاہدے پر عمل درامد سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور اس سلسلے میں حماس پر الزامات لگا رہے ہیں۔ تجزیہ نگار یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کے پاس غزہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کو التوا میں ڈالنے سے متعلق زیادہ آپشن موجود نہیں ہیں کیونکہ ٹرمپ پہلے ہی دو ٹوک فیصلہ کر چکے ہیں کہ اس سلسلے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ یوں بھی غزہ میں اس ایک اسرائیلی کی لاش کی موجودگی دوسرے مرحلے کو التوا میں ڈالنے کے لیے کوئی بڑا جواز نہیں ہے جبکہ اس میں قابض اسرائیل کا اپنا قصور ہے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ مشیر طاہر انون نے کہا ہے کہ تحریک حماس فلسطینی عوام کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دیتی ہے، مزاحمت اور اپنی آزادی کے لیے لڑنا ایک بنیادی حق ہے جس کو عالمی ادارے تسلیم کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ ہتھیار نہیں بلکہ قابض اسرائیل کا مسلسل غاصبانہ تسلط اور اس کا برقرار رہنا ہے ان کے خیال میں قابض اسرائیل غزہ پٹی میں امن قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس وقت بھی وہ مسلسل خلاف ورزیاں کر کے سیز فائر کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سیز فائر کے ایک سو دنوں کے دوران پانچ سو سے زائد پچھلے ماہ کے آخر میں حماس نے طوفان الاقصیٰ معرکے کے حوالے سے اپنا دوسرا بیانیہ دستاویز کی شکل میں عربی اور انگریزی میں جاری کیا۔ حماس نے کہا کہ یہ دو سالہ نسل کشی اور استقامت کے یہ ایک ایسی مزاحمت کا اظہار ہے جو شکست نہیں کھا سکتی اور ایک ایسی یادداشت ہے جو کبھی فراموش نہیں ہو سکتی۔ حماس نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ آزاد فلسطین فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو اور مہاجروں کی اپنے گھروں میں واپسی کوئی خواب نہیں ہے بلکہ قانونی معاہدات سے ثابت شدہ حق ہے۔ تاریخی اور سیاسی استحقاق ہے آج ایک طرف بورڈ آف پیس تیار ہے اور دوسری طرف قابض اسرائیل سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ مزاحمت کے ہتھیاروں کے مستقبل اور فلسطینی منظر نامے میں حماس کے کردار پر بحث کی جا رہی ہے دیکھیں کہ ٹرمپ کی قلابازی جس طرف کو ہو گی؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست قابض اسرائیل بورڈ ا ف پیس اور اس کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔