Jasarat News:
2026-06-03@01:39:12 GMT

غزہ بورڈ آف پیس

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260128-03-4
غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے قیام کا اعلان تین سے چار ماہ پہلے کیا گیا تھا کہا گیا کہ یہ غزہ بورڈ آف پیس کے تحت کام کرے گا۔ ایگزیکٹو بورڈ کو مشاورتی حیثیت حاصل ہوگی۔ بورڈ آف پیس جس میں پاکستان سمیت ترکیہ قطر اور دیگر 60 ملکوں کو دعوت نامہ بھیجا گیا ساتھ کہا گیا کہ اس بورڈ آف پیس کی شمولیت تین سال سے زیادہ برقرار رکھنے کے خواہاں ملکوں کو ایک ارب ڈالر نقد ادا کرنا پڑیں گے۔ اب تک آٹھ مسلم ممالک نے اس میں شمولیت کی حامی بھری چند دن قبل ان تمام ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس فورم میں شمولیت کے حوالے سے اپنی اپنی حکومتوں کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا اس اعلامیہ کے مطابق رکن ممالک اپنی آئینی اور قانونی ضروریات کے تحت دستاویزات پر دستخط کریں گے۔ اس میں صدر ٹرمپ کی قیادت میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کی اور اپنے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ متعلقہ ممالک بورڈ آف پیس کے مشن پر مکمل عمل درامد کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔ اس منصوبے کا مشن غزہ تنازع کا خاتمہ ہے وہ انتظامیہ کے طور پر یہ یہ کام کریں گے جس کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے کی جا چکی ہے۔

یہ منصوبہ اسرائیلی بمباری کے دو سال بعد تباہ حال غزہ میں امن کے قیام کی کوششوں کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں کہا کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حصول کا باعث بنیں گے اور ایک ایسے قابل اعتماد اور وقت کے تعین شدہ سیاسی عمل کے ذریعے فلسطینی ریاست کو قائم کرے گی جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خود مختار جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست ہو گی جس کا دارالحکومت القدس شریف ہوگا۔ اللہ کرے یہ محض خوش فہمی نہ ہو۔ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں اسرائیل اور حماس دونوں کے لیے مشکل راستے ہیں اسرائیل کو غزہ سے اپنی فوجیں نکالنی ہیں اور اس کے لیے سیکورٹی کی ذمے داری انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے سپرد کرنی ہے اور حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ اپنے ہتھیار، فلسطینی ریاست کے حوالے کرنے ہیں جس کے لیے وہ حامی بھر چکے ہیں لیکن قابض اسرائیل ایک یرغمالی کی لاش کو لے کر روڑے اٹکا رہا ہے، یہ ایک اسرائیلی پولیس افسر رین گویری ہے جن کو سات اکتوبر کو طوفان الاقصیٰ کے دوران یرغمال بنایا گیا تھا لیکن اب ان کی لاش غزہ کے ملبے میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی اور نہ ہی ان کا کوئی سراغ مل سکا ہے۔ رین گویری کا قابض اسرائیل کی اپنی بمباری کے باعث انتقال ہوا تھا اب اسی بات کو لے کر نیتن یاہو امن معاہدے پر عمل درامد سے پیچھے ہٹ رہے ہیں اور اس سلسلے میں حماس پر الزامات لگا رہے ہیں۔ تجزیہ نگار یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کے پاس غزہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کو التوا میں ڈالنے سے متعلق زیادہ آپشن موجود نہیں ہیں کیونکہ ٹرمپ پہلے ہی دو ٹوک فیصلہ کر چکے ہیں کہ اس سلسلے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ یوں بھی غزہ میں اس ایک اسرائیلی کی لاش کی موجودگی دوسرے مرحلے کو التوا میں ڈالنے کے لیے کوئی بڑا جواز نہیں ہے جبکہ اس میں قابض اسرائیل کا اپنا قصور ہے۔

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ مشیر طاہر انون نے کہا ہے کہ تحریک حماس فلسطینی عوام کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دیتی ہے، مزاحمت اور اپنی آزادی کے لیے لڑنا ایک بنیادی حق ہے جس کو عالمی ادارے تسلیم کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ ہتھیار نہیں بلکہ قابض اسرائیل کا مسلسل غاصبانہ تسلط اور اس کا برقرار رہنا ہے ان کے خیال میں قابض اسرائیل غزہ پٹی میں امن قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس وقت بھی وہ مسلسل خلاف ورزیاں کر کے سیز فائر کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سیز فائر کے ایک سو دنوں کے دوران پانچ سو سے زائد پچھلے ماہ کے آخر میں حماس نے طوفان الاقصیٰ معرکے کے حوالے سے اپنا دوسرا بیانیہ دستاویز کی شکل میں عربی اور انگریزی میں جاری کیا۔ حماس نے کہا کہ یہ دو سالہ نسل کشی اور استقامت کے یہ ایک ایسی مزاحمت کا اظہار ہے جو شکست نہیں کھا سکتی اور ایک ایسی یادداشت ہے جو کبھی فراموش نہیں ہو سکتی۔ حماس نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ آزاد فلسطین فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو اور مہاجروں کی اپنے گھروں میں واپسی کوئی خواب نہیں ہے بلکہ قانونی معاہدات سے ثابت شدہ حق ہے۔ تاریخی اور سیاسی استحقاق ہے آج ایک طرف بورڈ آف پیس تیار ہے اور دوسری طرف قابض اسرائیل سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ مزاحمت کے ہتھیاروں کے مستقبل اور فلسطینی منظر نامے میں حماس کے کردار پر بحث کی جا رہی ہے دیکھیں کہ ٹرمپ کی قلابازی جس طرف کو ہو گی؟

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست قابض اسرائیل بورڈ ا ف پیس اور اس کے لیے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان