Express News:
2026-06-03@00:09:00 GMT

وجودِ باری تعالیٰ کے واضح شواہد (آخری قسط)

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

ہم نے پچھلے کالموں میں ایک صاحبِ شعور انسان کی حیثیت سے نظرّیہ الحاد کا یعنی انسان اور کائنات کے خودبخود تخلیق ہونے کا جائزہ لیا، سچی بات ہے کہ یہ عقل کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتا۔ جب کہ دوسری جانب تمام شواہد، وقت کے سب سے سچّے اور امین انسان حضرت محمدﷺ کے نظرّیۂ تخلیق کی صداقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

فرض کریں کہ کسی انسان نے خدا کا تصوّر تخلیق کرنا ہو تو وہ اسے کسی شہنشاہ کے طور پر پیش کرے گا، وہ اس قسم کی بات کرے گا کہ آسمانوں پر رہنے والے ہزاروں فرشتے خدا کے بیٹے ہیں۔ ہندو مائیتھالوجی میں دیوی دیوتاؤں کا تصوّر ایسے ہی انسانی تصوّر وخیال کا نتیجہ ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی ذھن اگر خدا کا تصوّر خود تراشتا تو اسے بے اولاد کبھی نہ دکھاتا اور ہزاروں سال پہلے مرے ہوئے انسانوں کا زندہ ہونا اور دربارِ الٰہی میں پیش ہوکر اپنے ہر عمل کا حساب دینے کا تصوّر آج سے ہزاروں سال قبل انسان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا۔

مگر اصل خالق کے بارے میں آسمانوں سے اُترنے والے تعارفی فقروں میں بتایا گیا کہ وہ واحد خالق و مالک ہے یعنی زمین وآسمان اور کائناتوں کی سلطنت چلانے میں اس کا کوئی پارٹنر یا شریک ِکار نہیں۔ اس کا کوئی باپ نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر ہے جو ہر انسان کو اس کے ہر اچھے اور برے کام کا اجر اور سزا دے گا۔ ہماری عقل نے فوراً کہا کہ وہ عظیم الشان ہستی ایسی ہی ہونی چاہیے، جو انسانی جذبات، ضروریات اور جبلتّوں سے پاک اور بلند ہو اور وہ اتنا طاقتور ہو کہ ہر شخص کو اس کے کیے کی سزا یا جزا دینے کی قدرت رکھتا ہو۔

جب اس جیسا کلام تخلیق کرنے کا چیلنج دیا گیا تو عرب کے سب فصیح وبلیغ گنگ ہوگئے۔ اب کہا گیا کہ یہ پیغام اور یہ ہدایات چونکہ ازل تک تمام انسانوں کے لیے ہیں، اس لیے میں اس میں ایک لفظ کی بھی تحریف نہیں ہونے دوں گا اور اس کی حفاظت خود کروںگا۔ پندرہ سو سال بیت گئے مگر تحریف کی سب کوششیں اور سازشیں ناکام ہوئیں اور پیغامِ حق اپنی اصل صورت میں کاغذ پر بھی اور کروڑوں حفّاظ کے سینوں میں بھی بالکل محفوظ ہے۔

جو خود ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔ جب پیغام بھیجنا شروع کیا تویہ نہیں کہا کہ بس تم نے سن لیا تو اسی وقت آنکھیں بند کرکے اسے قبول کرو ورنہ سزا کے لیے تیار ہوجاؤ، بلکہ بار بار کہا گیا کہ تمہارے آس پاس زمین اور آسمان میں سورج، چاند اور ستاروں میں واضح نشانیاں ہیں، ان پر غور کرو، تفکّر اور تدبّر کرو، تم ہر چیز میں حیرت انگیز توازن، ربط اور درجۂ کمال کی کاملیّت (Perfection) کا مشاہدہ کروگے تو تمہارا دل اور دماغ پکار اُٹھے گا کہ یہ خودبخود تخلیق نہیں ہوسکتا، یہ واقعی کسی عظیم الشّان ہستی کی تخلیق ہے۔ پھر خالق نے اپنے تخلیقی شاہکار کے بارے میں چیلنج دے دیا، فرمایا ’’ تم رحمان کی تخلیق میں سے کسی قسم کی بے ربطی نہ پاؤ گے۔

پھر پلٹ کر دیکھو تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ بار بار نگاہ دوڑاؤ۔ تمہاری نگاہ پلٹ کر نامراد پلٹ آئے گی‘‘ دنیا بھر کے سائنسدان طاقتور ترین دوربینوں سے مشاہدہ کرچکے مگر وہ اس عظیم الشّان تخلیق میں کوئی خامی اور کوئی معمولی سا بھی نقص (Infirmity) نہیں ڈھونڈ سکے۔ اﷲ کی تخلیق کردہ اس کائنات میں ایسا توازن اور تناسب ہے کہ آج تک کوئی کہیں معمولی سا بھی جھول، بدنظمی، بے ترتیبی یا بے ربطی تلاش نہیں کرسکا۔ کیا کوئی انسانی تخلیق ایسی ہوسکتی ہے جس میں ہزاروں سال بعد بھی Wear اینڈ tear نہ ہو۔ کائنات کی تخلیق اور خالق کے بارے میں صاحبانِ عقل ودانش کے لیے کیا یہی ثبوت کافی نہیں ہے۔

اتنی طاقتور ہستی نے ایک کامل (perfect) کائنات اور دنیا بنائی تو ساتھ ہی اس کی فطرت میں (کششِ ثقل کی طرح کے) ایسے قوانین ڈال دیے ہیں اور اس کے مختلف اجزاء (گیسوں وغیرہ) میں اس طرح کا توازن پیدا کردیا ہے جو انسانی بقاء اورنشوونما کے لیے ضروری ہے، یہ سب خالق کی نعمتیں ہیں۔ اب مجھے دیکھنا ہے کہ کیا یہ طاقتور ترین ہستی اور شہنشاہ انسانوں کو پیدا کرکے ان سے بے نیاز ہوکر بیٹھ گیا ہے۔ نہیں۔ ایسا ہوتا تو طاقتور، کمزور کو بھیڑیوں کی طرح چیر پھاڑ دیتا اور کمزور کی عورتوں اور جائدادوں پر قبضہ کرلیتا۔ اس عظیم الشّان خالق نے ایک خوشگوار اور متوازن معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ڈُوز اور ڈونٹس بتائے ہیںاور سخت احکامات جاری کیے ہیں۔

سب سے پہلے انسانی جان کی حرمت قائم کی ہے اور واضح طور پر کہہ دیا ہے ، اگر ایک بے گناہ انسان کو ہلاک کروگے تو ہم تمہیں پوری انسانیت کا قاتل سمجھیں گے اور ایک قتل کی نہیں پوری انسانیت کے قتل کی سزا دیں گے۔ اس ایک آیت سے دنیا کے کروڑوں انسانوں کی جانیں محفوظ ہوگئیں۔ کیا دنیا کا کوئی مفکر یا ماہرِ سماجیات اس سے بہتر الفاظ یا قانون تخلیق کرسکتا تھا۔ یا کرسکا ہے؟ بالکل بھی نہیں۔

معاشرے کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ عدل اور انصاف ہے، اور انسانیت کو یہ گرانقدر تحفہ بھی آسمانوں سے ملا ہے۔ کیونکہ پتّوں سے تن ڈھانپنے والے انسانوں سے لے کر آج کے سب سے ترقی یافتہ ملک کے صدرِ محترم تک سب کی فطرت اور سوچ یکساں ہے۔ ان کی سرشت میں عدل نہیں غلبہ ہے، انصاف نہیں قبضہ اور مخالف کا خاتمہ ہے۔ آج کے ’’مہذّب ترین‘‘ انسان اپنے جیسے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو ہلاک کررہے ہیں اور ان کے وسائل پر زبردستی قبضے کررہے ہیں۔

نہ ان کا تمدّن ان کا گریبان پکڑتا ہے نہ ان کی تہذیب اور قوانین ان کے ہاتھ روکتے ہیں، یہ نام نہاد مہذّب انسان نہیں ۔انسانوں کا خالق ہی ہے جو انسانوں کو ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے۔ ہر چیز پر اختیار رکھنے والے خالق اور مالک کا حکم ہے کہ ہر قیمت پر اور ہر حال میں انصاف کرو، چاہے تمہیں اپنے والدین یا اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ فیصلہ کرنا پڑے۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ ’’کسی گروہ کی دشمنی تمہیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے‘‘ انصاف کا یہ معیار اﷲ نے مقرر کیا ہے جس کی عملی تفسیر اﷲ کے آخری نمائیندے حضرت محمدﷺ تھے۔

ایسا معیار تو دور کی بات ہے، اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کے درمیان کیا کبھی کسی امریکی یا یورپی حکمران نے اﷲ کے قائم کردہ معیار سے سو گنا کم درجے کا بھی انصاف روا رکھا ہے؟ بالکل نہیں۔ ظاہر ہے میرا شعور پکار اُٹھے گا کہ کمزور کو ہلاک کرنے والوں کا نظریہ جھوٹ اور باطل ہے اور عدل اور انصاف کا حکم دینے والا ہی اصل خدا ہے۔ دنیا میں ایک شخص سو آدمیوں کی جان بچاتا ہے یا مالی امداد کے ذریعے سیکڑوں گھرانوں کی کفالت کرتا ہے۔ دوسری جانب ایک ظالم اور قاتل ہزاروں انسانوں کو ہلاک کردیتا ہے۔ کیا دنیا میں ان دونون کو انصاف کے مطابق جزا اور سزا دی جاسکتی ہے؟ نہیں انصاف کا تقاضا صرف عادلِ مطلق، یومِ حساب کو ہی پورا کرے گا۔

خالق نے اپنی جو صفات بتائی ہیں انسانی ذھن توان کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا تھا۔ ہر وہ انسانی عمل جو انسانی تمدن میں زہر گھولتا ہے، اس سے منع کردیا گیا، جھوٹ، بد عہدی، قتل، زنا، غیبت، تجارت میں بددیانتی، بہتان حتیٰ کہ دوسروں کو برے القاب سے پکارنے اور تکبّر سے اکٹر کر چلنے تک سے منع کردیا گیا اور انسانوں پر رحم کرنے، والدین سے، عورتوں سے نرم رویّہ رکھنے اور غریبوں، مسکینوں اور حقداروں پر دل کھول کر خرچ کرنے کا حکم دیا گیا اور پھر اس زمانے میں عورتوں کو وراثت کا حقدار قرار دے دیا، جب عورت کو زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ کیا خالق کے سوا کوئی اور صدیوں پہلے والدین اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں ایسا سوچ سکتا تھا، اور انسانوں کو ایسے اعلیٰ اخلاق سکھا سکتا تھا؟ بالکل نہیں ۔

پھر کیا کوئی انسان پورے اعتماد کے ساتھ ایسا کہہ سکتا ہے کہ کوئی پتہ بھی میرے علم کے بغیر نہیں ہلتا۔ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اﷲ کے حکم کے بغیر مرجائے۔

اس نے موت کا وقت مقرّر کر رکھا ہے۔ میں جسے چاہتا ہوں رزق دیتا ہوں اور جسے چاہتا ہوں نہیں دیتا۔ اگر ایسی طاقتور ہستی جو خود انسان کی محدود عقل کے ادراک سے باہر ہے، یہ کہتی ہے کہ میں نے یہ دنیا آزمائش کے لیے پیدا کی ہے۔ مگر انسان کو کچھ بھی کرنے کا ارادہ اور اختیار دیا ہے۔اور اس کے عمل کے مطابق اسے جزا اور سزا دوںگا۔ تو اس عظیم الشان شہنشاہ کو ایسا کرنے کا اختیار ہے، حیرت ہے کہ ہم جو مقامی حاکم سے پوچھنے کہ ہمّت نہیں رکھتے مگر خالقِ کائنات سے انسانوں کی آزمائش کی حکمت پوچھنے پر اصرار کرتے رہتے ہیں!ہر انسان کا فرض ہے کہ اس عظیم الشان ہستی کا مقامِ ربانی تسلیم کرے اور اپنے آپ کو اس کی غلامی میں دے دے۔ مگر اس کی شانِ کریمی ملاخطہ کریں کہ وہ بار بار کہتا ہے کہ لاتعداد گناہ کرنے والا شخص بھی اگر سچّے دل سے توبہ کرکے اس سے معافی مانگ لے تو وہ اسے معاف کردے گا۔

اس موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، یہ تحریر سمندر کا ایک قطرہ بھی نہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی شخص بلاتعصّب خالی ذھن کے ساتھ کلامِ الٰہی کا مطالعہ کرے تو وہ ملحد ہوہی نہیں سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے بارے میں انسانوں کو کی تخلیق سکتا تھا کا تصو ر کو ہلاک دیا گیا کا کوئی کرنے کا اور ان کے لیے

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد