data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس محسن اختر کیانی نے وکلا کی ہڑتال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ ججز بھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہو گئی ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی ہڑتال سے متعلق اہم ریمارکس دیے اور جواب کنندہ کے وکیل کی عدم پیشی پر آرڈر لکھوا دیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ عدالت کو بتایا گیا کہ وکلا ہڑتال ہے اور وکیل اس وجہ سے پیش نہیں ہوئے ہوں گے اور استفسار کیا کہ وکلا کی ہڑتال کس وجہ سے ہے، جس پر بیرسٹر خوش بخت نے آگاہ کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کیخلاف ہڑتال ہے۔علاوہ ازیںاسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے قتل کے مقدمہ میں عمر قید پانے والے مجرم ذیشان مسیح کی جیل اپیل پر سماعت کی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ایک ہی وقوع تھا، ٹرائل دو الگ الگ کر دیے گئے، یہ قانونی سوال ہے، وکیل دوسرے ٹرائل سے شہادت دکھا رہے ہیں تو وہ عدالت کیسے دیکھ سکتی ہے؟وکلاء چیف جسٹس سے مل کر بتائیں کہ جج صاحب نے یہ آرڈر کر دیا ہے، جسٹس محسن کیانی نے استفسار کیا کہ یہ کون سے جج صاحب تھے؟وکیل نے جواب دیا کہ جج افضل مجوکہ صاحب نے کیس کا فیصلہ کیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ بار سے کوئی جا کر چیف جسٹس کو نہیں بتاتا کہ کیسے کیسے جج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں؟ ایسے جج ڈیپوٹیشن پر لائے جو بغیر گواہوں کے فیصلہ کر دیتے ہیں، ججز سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، آپ پراسیکوٹرز کی تو ٹریننگ کرائیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وکیل کے مطابق جج صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فیصلہ کر دیا، قتل جیسے مقدمہ میں کوئی جج اس طرح جلدبازی کرے گا تو ظلم ہو گا، میں ممبر انسپکشن ٹیم کو کہتا ہوں، ججز کی بھی تھوڑی ٹریننگ کرائیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہییں، ہم نے سیکھنا ہے، ہائیکورٹ کا ماتحت عدالتوں کو سپروائز کرنے کا اختیار ہے، ہائیکورٹ نے دیکھنا ہے کہ نیچے کی عدالتوں میں کیسے کام ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہی وقوعہ کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ کیسے کیا گیا؟عدالت نے پراسیکوٹر جنرل اسلام آباد کو معاونت کیلیے طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے اسلام ا باد

پڑھیں:

اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم  دیدیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی  کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔ 

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے  5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

مزید :

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور