کوئی جاکرچیف جسٹس کو نہیں بتاتاکہ کیسےکیسےجج لاہور سے ڈیپوٹیشن پرلائےہیں؟ جسٹس محسن اختر
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں قتل کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم کی اپیل پر دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا یہ کون سے جج صاحب تھے جنہوں نے ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر اور کراس ورژن کا الگ الگ ٹرائل اور فیصلہ سنا دیا۔ وکیل نے بتایا کہ جج افضل مجوکہ نے کیس کا فیصلہ کیا، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا بار سےکوئی جاکرچیف جسٹس کونہیں بتاتاکہ کیسے کیسے جج لاہور سے ڈیپوٹیشن پر لائے ہیں؟ ایسے جج ڈیپوٹیشن پر لائے جو بغیر گواہوں کے فیصلہ کردیتے ہیں، ججز سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، آپ پراسیکیوٹرز کی تو ٹریننگ کرائیں۔ان کا کہنا تھا وکیل کے مطابق جج صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فیصلہ کردیا، قتل جیسے مقدمہ میں کوئی جج اس طرح جلدبازی کرے گا تو ظلم ہوگا، ممبر انسپکشن ٹیم کوکہتا ہوں،ججز کی بھی تھوڑی ٹریننگ کرائیں،غلطیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ بدنیتی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوٹر جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔