ٹرمپ کے دعوؤں کے باوجود ڈالر 4 سال کی کم ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرامید بیانات کے باوجود امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے۔
گزشتہ روز ٹرمپ نے ڈالر کی قدر کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’بہترین‘ قرار دیا، تاہم ان کے اس بیان کے فوراً بعد ڈالر کی قیمت 4 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا امریکی ڈالر پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟
گزشتہ ہفتے کے بعد سے امریکی ڈالر اپنی قدر کا تقریباً 2.
ڈالر کی موجودہ قدر کے بارے میں سوال کے جواب میں ٹرمپ نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ بہت اچھا ہے۔
The DXY is at a 4-year low (96s). This is a competitive devaluation. The US is jawboning the dollar down to boost exports, and the market believes the Fed has capitulated. Investors are dumping Treasuries for Gold. The dollar is losing its "store of value" status. #DXY #USDollar pic.twitter.com/iSUKL3vc2j
— nairobistonks (@nairobistonks) January 29, 2026
’ڈالر کی قدر۔۔۔ ڈالر بہت اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ چین اور جاپان کو دیکھیں تو وہ ان سے سخت مقابلہ کرتے تھے کیونکہ وہ ہمیشہ ان کی کرنسی کی قدر کم کرنا چاہتے تھے۔
گزشتہ چند ماہ سے امریکی ڈالر مختلف عوامل کے باعث دباؤ کا شکار ہے، جن میں تجارتی محصولات کی دھمکیاں، فیڈرل ریزرو کی خودمختاری میں ممکنہ کمی، شرحِ سود میں کمی کے امکانات اور بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی گرین لینڈ ٹریڈ دھمکی، عالمی مارکیٹس میں ہلچل، ڈالر کمزور، یورپی صنعتیں پریشان
ان حالات کے نتیجے میں سرمایہ کار امریکی معیشت کے استحکام پر اعتماد کھوتے جا رہے ہیں اور محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دھاتوں خصوصاً سونے کی جانب متوجہ ہورہے ہیں۔
ڈالر پر سرمایہ کاروں کے متزلزل اعتماد کے باعث بدھ کے روز سونے کی قیمت 5200 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی، جو مالیاتی منڈیوں کی تاریخ کی ایک غیر معمولی اور ریکارڈ توڑ تیزی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، یہ امریکی ڈالر پر اعتماد کے بحران کو ظاہر کرتا ہے، جب تک ٹرمپ انتظامیہ غیر یقینی تجارتی، خارجہ اور معاشی پالیسیوں پر قائم رہتی ہے، ڈالر کی یہ کمزوری برقرار رہ سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی ڈالر جاپان چین سرمایہ کار سونے شرح سود صدر ٹرمپ فیڈرل ریزرو کرنسی مالیاتی خسارہ معیشت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ڈالر جاپان چین سرمایہ کار فیڈرل ریزرو مالیاتی خسارہ امریکی ڈالر ڈالر کی کی قدر
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔