حکومت بلوچستان کی معاشی ترقی کیلئے خصوصی توجہ دے‘پاکستان بزنس فورم
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ (کامرس ڈیسک) پاکستان بزنس فورم نے اس امر پر زور دیا ہے کہ بلوچستان کی معاشی ترقی اور صنعتی فروغ کے لیے حکومت کو خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ پی بی ایف کے مطابق صنعتی ترقی، ٹیکس اور ڈیوٹی میں رعایتیں، اسپیشل اکنامک زونز کا قیام، ان کی مراعات اور مکمل فعالیت کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال کی بہتری ناگزیر ہے، کیونکہ امن و امان ہی سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی بنیادی شرط ہے۔ فورم کے صوبائی چیئرمین دارو خان اچکزئی نے کہا کہ صوبے میں صنعت کاری کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات کی فوری ضرورت ہے جو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔دارو خان اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ بینک آف پنجاب، بینک آف خیبر اور سندھ بینک کی طرز پر بینک آف بلوچستان کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالے سے سہولت فراہم کریں تاکہ بلوچستان میں صنعتوں کے قیام کے لیے مالی وسائل تک رسائی ممکن اور قابلِ عمل ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینک آف بلوچستان کو صوبے کی مخصوص معاشی و سماجی صورتحال اور مقامی کاروباری طبقے کی محدود صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی قرضہ پالیسی مرتب کرنی چاہیے، جو صوبے کو معاشی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل کر سکتی ہے اور اس سے بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگا۔پی بی ایف بلوچستان کی وائس چیئرپرسن و سابق وزیر زبیدہ جلال نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نہایت باہمت اور متحرک ہیں، اور تمام تر مشکلات کے باوجود صوبے میں کاروباری، تجارتی، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ گھریلو صنعتوں اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا تحفظ ناگزیر ہے، کیونکہ یہی ادارے صوبائی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع تیزی سے کم ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ یہی کاروبار پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں روزگار کے سب سے بڑے ذرائع ہیں۔ ان کی کمزوری صوبے کے معاشی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔زبیدہ جلال نے مزید کہا کہ صوبے میں بینک کے بعد سب سے اہم اور شدید کمی انشورنس کمپنی کی ہے۔ انشورنس سہولت نہ ہونے کے باعث تاجر، صنعتکار، ٹرانسپورٹرز، سروس فراہم کرنے والے اور سرمایہ کار خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP/3P) ماڈل کے تحت اہم مالی و معاشی اداروں کے قیام کی تجویز دی۔پی بی ایف بلوچستان کے سیکریٹری جنرل مقبول عالم نوری نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لیے انہیں غربت سے نکالنا ناگزیر ہے، جس کے لیے تعلیم، ہنرمندی، روزگار کے مواقع اور معاشی بااختیاری فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صوبے کی معاشی ترقی کا حصہ بنائے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔انہوں نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک جامع مارکیٹنگ اور پبلک ریلیشنز مہم کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ اور سیکورٹی کی یقین دہانی کروائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلوچستان کی سرمایہ کاری کہ بلوچستان ف بلوچستان نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔