پاک چین ای مائننگ پلیٹ فارم کا آغاز، معدنی شعبے میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری متوقع
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو اب محض انفرا اسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ پیداوار، برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔
پاک چین منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان اور چین نے پاک چین ای مائننگ پلیٹ فارم کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سی پیک فیز ٹو کی رفتار میں اضافہ، اقتصادی زونز کے ذریعے 2030 تک 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری ہدف
’اس ڈیجیٹل اقدام کا مقصد پاکستانی اداروں اور چینی کمپنیوں کے درمیان معلومات کے تبادلے، منصوبہ جاتی روابط اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔‘
اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان کے معدنی شعبے میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری سمیت ملک کے معدنی شعبے میں شفافیت، کارکردگی اور تعاون کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
احسن اقبال کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر یہ شراکت داری تسلسل، اعتماد اور اسٹریٹجک گہرائی کی روشن مثال بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک نے توانائی، سڑکوں، گوادر پورٹ اور قومی رابطہ کاری کے ذریعے پاکستان کے ترقیاتی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.
مزید پڑھیں: چین کے تجربات سے پاکستان معاشی اور زرعی انقلاب لا سکتا ہے، سی پیک 2.0 کو کامیاب بنائیں گے: وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورۂ چین کے دوران ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت اُڑان پاکستان کے پانچ ستونوں کو چینی صدر شی جن پنگ کے فائیو گروتھ کوریڈورز سے منسلک کیا گیا، تاکہ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور عملدرآمد میں ہم آہنگی پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ معدنی شعبہ اُڑان پاکستان کے برآمدی اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت تقریباً 6 ٹریلین ڈالر ہے، تاہم موجودہ معدنی برآمدات صرف 2 ارب ڈالر سالانہ ہیں۔
’بہتر حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے یہ برآمدات 6 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھائی جا سکتی ہیں اور لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔‘
????BREAKING: Pakistan’s mineral exports to China reach $1.14B in 2025, led by copper and aluminium.
????https://t.co/70HEz4J9SN pic.twitter.com/oOMrR3t5Gp
— The Daily CPEC (@TheDailyCPEC) January 28, 2026
احسن اقبال نے زور دیا کہ چین کے ساتھ معدنی تعاون کو محض کان کنی تک محدود رکھنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن، پروسیسنگ، اسمیلٹنگ اور ریفائننگ تک وسعت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے سینڈک، ڈوڈار اور تھر منصوبوں کو اس تعاون کی کامیاب مثالیں قرار دیا، جبکہ حالیہ سرمایہ کاری معاہدوں کو شعبے میں بڑھتے اعتماد کا مظہر بتایا۔
انہوں نے چین کو تانبہ، سونا، ریئر ارتھ منرلز اور دیگر اہم معدنیات میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی معدنی دولت کو صنعتی طاقت، برآمدی مسابقت اور مشترکہ خوشحالی میں بدلا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: سی پیک فیز ٹو کا آغاز ہو چکا، چین نے کبھی کسی دوسرے ملک سے تعلق نہ رکھنے کی شرط نہیں لگائی، احسن اقبال
احسن اقبال نے چین سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے لیے اپنی وسیع درآمدی منڈی کھولے، کیونکہ چین کی سالانہ درآمدات تقریباً 2 ٹریلین ڈالر ہیں اور اگر پاکستان کو اس میں معمولی حصہ بھی مل جائے تو ملک آئی ایم ایف پروگرامز سے نکل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی چین کو برآمدات موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر2035 تک 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جس سے زرمبادلہ کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔
فورم سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ زائی دونگ نے پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری اور استعداد کار بڑھانے میں چین کی گہری دلچسپی کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں:
انہوں نے پائیداری اور بین الاقوامی تعمیراتی معیارات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دارانہ کان کنی سے وسائل کے بہتر استعمال اور مقامی آبادی کے ساتھ ہم آہنگ تعلقات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سینڈک منصوبے کے تحت اب تک 5,200 سے زائد مقامی افراد کو تربیت دی جا چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احسن اقبال استعداد کار برآمدات پاک چین منرل کوآپریشن فورم پاکستان تعمیراتی معیار چین سی پیک کان کنی وزیر منصوبہ بندی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احسن اقبال استعداد کار برا مدات پاک چین منرل کوآپریشن فورم پاکستان تعمیراتی معیار چین سی پیک کان کنی انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری احسن اقبال پاکستان کے کہ پاکستان ارب ڈالر کے معدنی کے ذریعے سکتا ہے اور چین پاک چین چین کے سی پیک
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش