نئی دلی، شرجیل امام کی غیر قانونی قید کے چھ برس مکمل
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ان پر لوگوں کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف دہلی، اتر پردیش، آسام، منی پور اور اروناچل پردیش میں ایف آئی آر درج کی گئیں، انہیں جامعہ احتجاج کیس اور دہلی تشدد سازش کیس میں پھنسایا گیا۔ ان کاتعلق بہار کے جہان آباد سے ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نئی دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) مخالف تحریک کی ایک اہم شخصیت شرجیل امام کو آج غیر قانونی حراست کے چھ برس مکمل ہو گئے ہیں۔ انہیں 28 جنوری 2020ء کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق شرجیل امام کے خلاف "سی اے اے“ اور ”این آر سی“ کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران عوامی اجتماعات سے تقاریر کرنے پر مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر لوگوں کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف دہلی، اتر پردیش، آسام، منی پور اور اروناچل پردیش میں ایف آئی آر درج کی گئیں۔ بعد میں انہیں جامعہ احتجاج کیس اور دہلی تشدد سازش کیس میں پھنسایا گیا۔ ان کاتعلق بہار کے جہان آباد سے ہے۔ انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے ماڈرن ہسٹری اور فلسفہ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی، مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ حاصل کیا اور اسسٹنٹ پروفیسر شپ کے اہل تھے۔ ان کے خلاف کل آٹھ ایف آئی آر درج کی گئیں۔ انہوںنے ان میں سے سات میں ضمانت حاصل کی ہے، تاہم وہ ابھی بھی دہلی فسادات کی سازش کیس میں جیل میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا گیا تھا کے خلاف درج کی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔