وفاقی وزراء تیراہ متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی سے فوراً باز آجائیں، پروفیسر ابراہیم
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے آج تک فوج ہی تمام آپریشنوں کا فیصلہ کرتی رہی ہے اور کوئی بھی انخلا رضا کارانہ نہیں، فوج کی جبری بے دخلیاں ہیں۔ فوج کے جرائم میں میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران احمد خان نیازی اور محمد شہباز شریف مکمل طور پر شریک ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے حکومتی وزراء کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے تیراہ متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ بنوں میں الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا جنوبی کے زیرِ اہتمام مستحق خاندانوں کے 15 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزراء خواجہ آصف اور عطاء تارڑ تیراہ متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی سے فوراً باز آجائیں۔ ان کے بیانات عذرِ گناہ بد تر از گناہ کے مصداق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے آج تک فوج ہی تمام آپریشنوں کا فیصلہ کرتی رہی ہے اور کوئی بھی انخلا رضا کارانہ نہیں، فوج کی جبری بے دخلیاں ہیں۔ فوج کے جرائم میں میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران احمد خان نیازی اور محمد شہباز شریف مکمل طور پر شریک ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوجی آپریشنوں کا سلسلہ فوری طور پر روک دیا جائے کیونکہ ان سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بگڑتے ہیں۔ صوبے میں دو عشروں سے زائد عرصہ سے فوجی آپریشنز ہو رہے ہیں۔ ان کاکوئی فائدہ ہوا ہو تو قوم کو بھی بتایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ آپریشنوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو ایک اور آپریشن سے کیسے امن آئے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک افغان سرحد، مسئلے کے حل کے لیے یہاں پر آباد قبائل کے حوالے کی جائے۔انہوں نے افغان مہاجرین کے بارے میں بھی حکومتِ پاکستان کے ذلت آمیز رویہ کو فی الفور ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کی تاریخی چھاؤنیاں پشاور، مردان، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان عوام کے لیے کھول دی جائیں۔ اجتماعی شادیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں جو معاشرے میں سادگی، اخوت اور باہمی تعاون کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نکاح کو آسان بنا کر ہی معاشرتی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے، جبکہ غیر ضروری رسومات نوجوانوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے الخدمت فاؤنڈیشن کی فلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ مستحق افراد کی باعزت مدد کر کے قابلِ تقلید کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے صاحبِ حیثیت افراد پر زور دیا کہ وہ ایسے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ معاشرے سے غربت اور محرومی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے نو بیاہتا جوڑوں کے لیے نیک تمناؤں اور دعا کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آپریشنوں کا انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔