جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے آج تک فوج ہی تمام آپریشنوں کا فیصلہ کرتی رہی ہے اور کوئی بھی انخلا رضا کارانہ نہیں، فوج کی جبری بے دخلیاں ہیں۔ فوج کے جرائم میں میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران احمد خان نیازی اور محمد شہباز شریف مکمل طور پر شریک ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے حکومتی وزراء کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے تیراہ متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ بنوں میں الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا جنوبی کے زیرِ اہتمام مستحق خاندانوں کے 15 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزراء خواجہ آصف اور عطاء تارڑ تیراہ متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی سے فوراً باز آجائیں۔ ان کے بیانات عذرِ گناہ بد تر از گناہ کے مصداق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے آج تک فوج ہی تمام آپریشنوں کا فیصلہ کرتی رہی ہے اور کوئی بھی انخلا رضا کارانہ نہیں، فوج کی جبری بے دخلیاں ہیں۔ فوج کے جرائم میں میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران احمد خان نیازی اور محمد شہباز شریف مکمل طور پر شریک ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوجی آپریشنوں کا سلسلہ فوری طور پر روک دیا جائے کیونکہ ان سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بگڑتے ہیں۔ صوبے میں دو عشروں سے زائد عرصہ سے فوجی آپریشنز ہو رہے ہیں۔ ان کاکوئی فائدہ ہوا ہو تو قوم کو بھی بتایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ آپریشنوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو ایک اور آپریشن سے کیسے امن آئے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک افغان سرحد، مسئلے کے حل کے لیے یہاں پر آباد قبائل کے حوالے کی جائے۔انہوں نے افغان مہاجرین کے بارے میں بھی حکومتِ پاکستان کے ذلت آمیز رویہ کو فی الفور ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کی تاریخی چھاؤنیاں پشاور، مردان، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان عوام کے لیے کھول دی جائیں۔ اجتماعی شادیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں جو معاشرے میں سادگی، اخوت اور باہمی تعاون کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نکاح کو آسان بنا کر ہی معاشرتی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے، جبکہ غیر ضروری رسومات نوجوانوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے الخدمت فاؤنڈیشن کی فلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ مستحق افراد کی باعزت مدد کر کے قابلِ تقلید کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے صاحبِ حیثیت افراد پر زور دیا کہ وہ ایسے فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ معاشرے سے غربت اور محرومی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے نو بیاہتا جوڑوں کے لیے نیک تمناؤں اور دعا کا اظہار کیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آپریشنوں کا انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم