بھارت نے یاسین ملک کے بارے میں سیاسی بنیادوں پر کوئی فیصلہ کیا تو اسکے سنگین نتائج نکلیں گے، لبریشن فرنٹ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
محمد رفیق ڈار نے کہا کہ جے کے ایل ایف کی قیاد ت ہر ممکن سیاسی اور سفارتی وسائل کو متحرک کرے گی تاکہ بھارت پر یاسین ملک کے حوالے سے کوئی بھی ناخوشگوار فیصلہ نہ کرنے کے حوالے سے دبائو ڈالا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے غیر قانونی طور پر نظربند پارٹی سربراہ محمد یاسین ملک کو بھارتی حکام کی طرف سے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان اعلیٰ محمد رفیق ڈار نے اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں یاسین ملک کے ساتھ کیے جانے والے بہیمانہ برتاﺅ پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک نے این آئی اے کے تاخیری حربوں اور عدالت میں ازخود اپنی حاضری پر پابندی کے فیصلے پر اعتراض اٹھایا۔ یاسین ملک آج کی سماعت کے دوران تہاڑ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ محمد رفیق ڈار نے کہا کہ جے کے ایل ایف کی قیاد ت ہر ممکن سیاسی اور سفارتی وسائل کو متحرک کرے گی تاکہ بھارت پر یاسین ملک کے حوالے سے کوئی بھی ناخوشگوار فیصلہ نہ کرنے کے حوالے سے دبائو ڈالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے یاسین ملک کے بارے میں حق و انصاف کے منافی محض سیاسی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا تو اسکے سنگین نتائج نکلیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ یاسین ملک ایک معروف سیاسی رہنما ہیں جو تنازعہ کشمیر کے ایک پرامن اور سیاسی حل پر یقین رکھتے ہیں اور بھارت کا کوئی بھی حربہ انہیں اپنے عظیم مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یاسین ملک کے کے حوالے سے نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔