کراچی: نیوکراچی اور لکی اسٹار میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
کراچی کے علاقے نیوکراچی گودھرا میں کپڑے کے گودام اور لکی اسٹار کے قریب عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا۔
فائر افسر کے مطابق کپڑے کے گودام میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے 7 فائر ٹینڈر اور واٹر ٹینکر استعمال کیے گئے، رہائشی پلاٹ میں پرانے کپڑوں کا گودام بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ رہائشی پلاٹوں پر کمرشل سرگرمیوں سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں، آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تاہم کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔
دوسری جانب کراچی کے علاقے صدر میں لکی اسٹار کے قریب عمارت کے ایک فلیٹ کے گیزر میں آگ لگ گئی تھی۔
اس حوالے سے فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی آگ پر قابو پا لیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
فائر بریگیڈ حکام نے کہا ہے کہ آگ پر ایک فائر ٹینڈر کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔