بارش اور برفباری سے بالائی علاقوں میں نظامِ زندگی درہم برہم
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور شدید برفباری کے بعد معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔
مختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش، بجلی کی معطلی اور خوراک و ایندھن کی قلت نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
گلگت بلتستان کے ضلع استور میں برفباری کے باعث رابطہ سڑکیں تاحال بحال نہ ہو سکیں۔ برف میں پھنسے ایک گاؤں کا بیمار شخص اسپتال منتقل کیے جانے سے پہلے ہی دم توڑ گیا، جس سے علاقے میں صورتحال کی سنگینی مزید واضح ہو گئی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان کے بالائی علاقوں اور پاک افغان سرحدی اضلاع چمن، قلعہ عبداللہ اور زیارت میں بھی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ شدید برفباری کے باعث زمینی راستے منقطع ہیں اور توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی سمیت درجنوں دیہات کے مکین گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔
راستوں کی بندش کے سبب کئی علاقوں میں خوراک اور ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کنٹرول روم حکام کے مطابق بعض دور دراز علاقوں میں ریلیف کی فراہمی کے لیے ہیلی کاپٹر ہی واحد ذریعہ رہ گیا ہے۔
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں برفباری کا سلسلہ رک چکا ہے تاہم مرکزی شاہراہ برفانی تودہ گرنے کے باعث تاوبٹ تک بند ہے، جبکہ نکیال کے تیرہ دیہاتوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
سوات کے بالائی علاقوں میں بھی برفباری کے بعد بند ہونے والی رابطہ سڑکوں کو بحال کرنے کا کام جاری ہے، تاہم سرد موسم اور خراب حالات کے باعث بحالی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بالائی علاقوں برفباری کے علاقوں میں کے باعث
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔