اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس 188 ہزار پوائنٹس کی سطح برقرار نہ رکھ سکا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر فروخت کا دباؤ غالب رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 400 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے دوچار ہو گیا۔
صبح 9 بج کر 45 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 427.60 پوائنٹس یعنی 0.23 فیصد کمی کے ساتھ 187,952.78 پوائنٹس پر موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
فروخت کا دباؤ اہم شعبوں میں دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنریاں شامل تھیں۔
اے آر ایل، حبکو، او جی ڈی سی، پی او ایل، ایچ بی ایل، ایم ای بی ایل، ایم سی بی اور یو بی ایل سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر ڈالنے والے شیئرز سرخ نشان میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Selling pressure hit the Pakistan Stock Exchange as the KSE-100 index fell over 400 points, while concerns grow over a proposed India-EU trade deal's impact on Pakistan's textile exports.
— Investify Pakistan (@investifypk) January 29, 2026
ایک اہم پیش رفت میں مختلف تجارتی تنظیموں نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کے ممکنہ اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات کو ساختی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے، حالانکہ پاکستان کو یورپی یونین میں جی ایس پی پلس کی سہولت حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: مثبت آغاز کے بعد اسٹاک ایکسچینج مندی سے دوچار، انڈیکس 600 پوائنٹس گرگیا
گزشتہ روز یعنی بدھ کو اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار ملا جلا رہا، تاہم توانائی، بجلی کی پیداوار اور بینکاری شعبے کے منتخب حصص میں خریداری کے باعث مارکیٹ معمولی بہتری کے ساتھ بند ہوئی۔
مسلسل اتار چڑھاؤ اور کیش و فیوچر مارکیٹ میں منفی رجحان کے باوجود بینچ مارک انڈیکس مثبت زون میں بند ہوا۔
بدھ کو کے ایس ای 100 انڈیکس 177.53 پوائنٹس یعنی 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 188,380.39 پوائنٹس پر بند ہواتھا۔
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے جمعرات کو کچھ وقفہ لیا، جہاں ٹیکنالوجی سیکٹر کے ملے جلے مالی نتائج اور ایپل کے نتائج سے قبل احتیاطی رجحان دیکھا گیا، اس دوران امریکی اور یورپی حکام کی زبانی حمایت کے باوجود ڈالر دباؤ کا شکار نظر آیا۔
سونا اور چاندی کی قیمتیں سرمایہ کاروں کی محفوظ اثاثوں کی جانب بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث نئی تاریخی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئیں، جبکہ تیل کی قیمتیں 4 ماہ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچیں۔
مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی
یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں ممکنہ حملوں کی وارننگ دی۔
امریکی فیڈرل ریزرو نے توقع کے مطابق شرحِ سود برقرار رکھی, فیڈ چیئمین جیروم پاول نے معیشت کے واضح طور پر بہتر ہوتے منظرنامے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں شرح سود برقرار رکھنے پر وسیع اتفاق رائے موجود ہے۔
سرمایہ کاروں نے اپریل میں مزید شرح سود میں کمی کے امکانات کو گھٹا کر 26 فیصد کر دیا ہے، جبکہ جون کو اگلی ممکنہ ونڈو تصور کیا جا رہا ہے، جس کے امکانات 61 فیصد ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج انڈیکس ایران بھارت ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی سیکٹر جوہری معاہدہ جی ایس پی پلس چاندی ڈونلڈ ٹرمپ سونا فیڈرل ریزرو ہوزری وارننگ یورپی یونین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج انڈیکس ایران بھارت ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی سیکٹر جوہری معاہدہ جی ایس پی پلس چاندی ڈونلڈ ٹرمپ فیڈرل ریزرو ہوزری وارننگ یورپی یونین اسٹاک ایکسچینج
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔