حماس غزہ کی انتظامیہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان، رفح بارڈر فوری کھولنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
دیر البلح: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس نے زور دیا ہے کہ رفح سرحدی گزرگاہ آئندہ چند دنوں میں مکمل طور پر کھولی جائے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، فائلیں تیار ہیں اور مختلف شعبوں میں اختیارات منتقل کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کی مکمل سول انتظامیہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کی جائے گی۔
یہ 15 رکنی نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) امریکی سرپرستی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت قائم کی گئی ہے، جو 10 اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہے۔ کمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی اور ایک اعلیٰ نگران بورڈ کے تحت کام کرے گی، جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
کمیٹی کے سربراہ اور فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث رفح بارڈر کھلتے ہی غزہ میں داخل ہوں گے۔ حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ رفح گزرگاہ دونوں سمتوں میں مکمل آزادی کے ساتھ کھولی جائے اور اس میں اسرائیلی رکاوٹیں شامل نہ ہوں۔
واضح رہے کہ رفح بارڈر مئی 2024 سے بند ہے، سوائے 2025 کے اوائل میں محدود مدت کے لیے کھولے جانے کے۔ حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے تیار ہے اور دوسرے مرحلے کے تمام نکات پر بات چیت کے لیے بھی آمادہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔