دیر البلح: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس نے زور دیا ہے کہ رفح سرحدی گزرگاہ آئندہ چند دنوں میں مکمل طور پر کھولی جائے۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، فائلیں تیار ہیں اور مختلف شعبوں میں اختیارات منتقل کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق غزہ کی مکمل سول انتظامیہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کی جائے گی۔
یہ 15 رکنی نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) امریکی سرپرستی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت قائم کی گئی ہے، جو 10 اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہے۔ کمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی اور ایک اعلیٰ نگران بورڈ کے تحت کام کرے گی، جس کی سربراہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
کمیٹی کے سربراہ اور فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیر علی شعث رفح بارڈر کھلتے ہی غزہ میں داخل ہوں گے۔ حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ رفح گزرگاہ دونوں سمتوں میں مکمل آزادی کے ساتھ کھولی جائے اور اس میں اسرائیلی رکاوٹیں شامل نہ ہوں۔
واضح رہے کہ رفح بارڈر مئی 2024 سے بند ہے، سوائے 2025 کے اوائل میں محدود مدت کے لیے کھولے جانے کے۔ حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے تیار ہے اور دوسرے مرحلے کے تمام نکات پر بات چیت کے لیے بھی آمادہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کمیٹی کے کے لیے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان